ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفاتحة (1) — آیت 2

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾
سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔ En
سب طرح کی تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے
En
سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 2) ➊ { اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ:} حمد کا معنی کسی خوبی کی وجہ سے تعریف ہے۔ اس پر الف لام استغراق کا ہے جس سے مراد حمد کے تمام افراد ہیں، یعنی جو تعریف بھی ہے اللہ ہی کی ہے، نہ کسی دوسرے خود ساختہ معبود کی نہ کسی مخلوق کی، کیونکہ مخلوق میں اگر تعریف کے لائق کوئی خوبی ہے تو وہ اسی کی پیدا کردہ ہے۔
➋ لفظ اللہ چونکہ ذاتی نام ہے، اس لیے اس میں اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء و صفات آ جاتے ہیں، وہ ننانوے اسماء و صفات بھی جن کا ذکر حدیث میں ہے اور وہ بھی جو ان کے علاوہ ہیں، خواہ وہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھائے ہیں یا ان کا علم صرف اپنے پاس رکھا ہے۔ جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد وہ ذات گرامی ہے جو نبی بھی ہے رسول بھی، شاہد، مبشر اور نذیر بھی، داعی الی اللہ اور سراج منیر بھی، ماحی اور عاقب بھی، خاتم النّبیین اور سید ولد آدم بھی، غرض اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم (ذاتی نام) میں آپ کے تمام نام اور تمام صفات آ جاتی ہیں، اسی طرح لفظ اللہ علم (ذاتی نام) ہونے کی وجہ سے تمام اسماء و صفات کا جامع ہے، اس لیے اہل علم فرماتے ہیں کہ {اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ } دعویٰ بھی ہے اور دلیل بھی، یعنی سب تعریف اللہ کے لیے ہے، کیونکہ وہ تمام صفات کمال کا جامع ہے اور ہر صفت پر اس کی حمد لازم ہے۔
➌ { اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ } میں کئی عموم ہیں اور ایک خصوص ہے۔ { اَلْحَمْدُ } میں الف لام استغراق کا ہونے کی وجہ سے کئی قسم کا عموم ہے اور { لِلّٰهِ } میں ایک خصوص ہے، وہ یہ کہ اس میں لام اختصاص کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر حمد اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ حمد کے عموم میں فاعل کا بھی عموم ہے کہ ہر حمد کرنے والا درحقیقت اللہ ہی کی تعریف کرتا ہے، خواہ وہ خود رب العالمین ہو یا انسان یا جن یا فرشتہ یا کوئی بھی مخلوق ہو۔ ایک مقام پر فرمایا: «وَ اِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ» [بنی إسرائیل: ۴۴] جو بھی شے ہے اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے۔ اسی طرح حمد کے عموم میں مکان (جگہ) کا بھی عموم ہے، یعنی وہ کسی بھی جگہ میں ہو، زمین میں ہو یا آسمان میں، یا ان کے درمیان ہو یا عرش پر، فرمایا: «وَ لَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ» [الروم: ۱۸] یعنی آسمانوں اور زمین میں اسی کی حمد ہے۔ اسی طرح زمان کا بھی عموم ہے، یعنی وہ حمد دن میں ہو یا رات میں، ماضی میں ہو یا حال میں یا مستقبل میں، دنیا میں ہو یا آخرت میں، سب کی سب اللہ کے لیے خاص ہے، فرمایا: «وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ» [القصص: ۷۰] اور وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کے لیے دنیا اور آخرت میں سب تعریف ہے۔ اس طرح { اَلْحَمْدُ } میں خود حمد کا بھی عموم ہے، یعنی وہ حمد کسی بھی لفظ کے ساتھ ہو یا کسی بھی زبان میں، بلند آواز سے ہو یا آہستہ، دل سے ہو یا زبان سے یا دوسرے اعضاء کے ساتھ، غرض تعریف کوئی بھی ہو صرف اکیلے اللہ کے لیے خاص ہے، کسی دوسرے میں کوئی خوبی یا قابل تعریف بات ہے تو وہ اس کی اپنی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کر دہ ہے، اس لیے اس کی وجہ سے اس کی تعریف بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی تعریف ہے۔
➍ بعض اہل علم نے قرآن مجید کے چار حصے کیے ہیں، ہر حصہ { اَلْحَمْدُ } سے شروع ہوتا ہے۔ پہلا حصہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» سورۂ فاتحہ سے شروع ہوتا ہے، دوسرا «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ» سورۂ انعام سے، تیسرا «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ» سورۂ کہف سے اور چوتھا «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ» سورۂ سبا سے۔
➎ { اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ } ایسا مبارک کلمہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کا آغاز اس سے ہوتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر خطبہ کی ابتدا اس سے کرتے تھے۔ (مسلم: ۴۵؍۸۶۸) کھانا کھانے کے بعد اور چھینک آنے پر اللہ کی حمد کرتے تھے۔ (بخاری: ۵۴۵۸، ۶۲۲۴) سوتے وقت بستر پر آ کر یہ دعا پڑھتے: [اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَ آوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ] سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا اور ہمیں پلایا اور ہمیں کافی ہو گیا اور ہمیں ٹھکانا دیا، کیونکہ کتنے ہی لوگ ہیں جنھیں نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ کوئی ٹھکانا دینے والا۔ [مسلم، الذکر والدعاء، باب الدعاء عند النوم: ۲۷۱۵، عن أنس رضی اللہ عنہ] صبح اٹھتے وقت یہ دعا پڑھتے: [اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ اَحْيَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَ اِلَيْهِ النُّشُوْرُ] سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔ [بخاری، الدعوات، باب وضع الید تحت الخد الیمنٰی: ۶۳۱۴، عن حذیفۃ رضی اللہ عنہ]
قیامت کے دن لوگ قبروں سے اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے نکلیں گے، فرمایا: «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ» [بنی إسرائیل: ۵۲] جس دن وہ تمھیں بلائے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے چلے آؤ گے۔ اور جنت میں داخل ہونے کے بعد اللہ کی حمد کریں گے، فرمایا: «وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ هَدٰىنَا لِهٰذَا وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ» [الأعراف: ۴۴] اور وہ کہیں گے سب تعریف اللہ کی ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت دی اور ہم کبھی نہ تھے کہ ہدایت پاتے اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ہمیں ہدایت دی۔ اور جنت میں ان کی گفتگو کا اختتام بھی اسی پر ہوا کرے گا، فرمایا: «دَعْوٰىهُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» [یونس: ۱۰] ان کی دعا ان (جنتوں) میں یہ ہو گی پاک ہے تو اے اللہ! اور ان کی آپس کی دعا ان میں سلام ہو گی اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہو گا کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے۔ (آمین)
➏ کلمہ { اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ } ایک عظیم الشان حقیقت کا اظہار بھی ہے، کلمۂ شکر بھی اور بہترین مکمل دعا بھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پاکیزگی نصف ایمان ہے اور الحمد للہ میزان کو بھر دیتا ہے۔ [مسلم، الطہارۃ، باب فضل الوضوء: ۲۲۳، عن أبی مالک الأشعری رضی اللہ عنہ] تفصیل اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر عبادت کا اصل مقصود اسے پکارنا اور اس سے مانگنا ہے، جیسا کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ] پکارنا ہی عبادت ہے۔ [ترمذی، الدعوات، باب منہ …: ۳۳۷۲، و صححہ الألبانی] انسان کی ہر عبادت: نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، جہاد، غرض زندگی کا ہر لمحہ اس کے حکم کے مطابق غلام بن کر گزارنا اس سے مانگنے ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ ان میں سے بہترین صورت اس کی تعریف کرنا اور اس کا شکر ادا کرنا ہے، اس پر وہ مزید نعمتوں سے نوازتا ہے، فرمایا: «لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ» [إبراہیم: ۷] بے شک اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور ہی تمھیں زیادہ دوں گا۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اَفْضَلُ الدُّعَاءِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ] سب سے بہتر ذکر لا الہ الا اللہ ہے اور سب سے بہتر دعا الحمد للہ ہے۔ [ترمذی، الدعوات، باب ما جاء أن دعوۃ المسلم مستجابۃ: ۳۳۸۳، عن جابر رضی اللہ عنہ۔ السلسلۃ الصحیحۃ: ۱۴۹۷] ایک عرب شاعر نے اپنے ممدوح کے متعلق کہا ہے:
{اِذَا أَثْنٰي عَلَيْكَ الْمَرْأُ يَوْمًا
كَفَاهُ مِنْ تَعَرُّضِهِ الثَّنَاءُ}
جب کوئی شخص کسی دن تمھاری تعریف کرتا ہے تو اسے اس کے سوال کرنے سے تعریف ہی کافی ہو جاتی ہے۔
جب ایک سخی شخص جو مخلوق ہے، صرف تعریف سن کر نواز دیتا ہے، صاف لفظوں میں سوال کا انتظار نہیں کرتا تو رب العالمین جو جواد بھی ہے، ماجد بھی، اپنی حمد پر کیوں نہیں نوازے گا۔ خصوصاً جب اس سے بڑھ کر اپنی تعریف سن کر خوش ہونے والا کوئی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا کوئی نہیں جسے اللہ سے زیادہ (اپنی) تعریف پسند ہو، اس لیے اس نے خود اپنی تعریف کی ہے۔ [بخاری، التفسیر، باب قول اللہ عزوجل: «قل إنما حرم ربی الفواحش…» : ۴۶۳۷، عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ]
➐ {رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ: رَبِّ } کا معنی ہے سردار جس کی اطاعت ہوتی ہو اور مالک اور پرورش کرنے والا۔ یہ { رَبَّ يَرُبُّ (ن) } (پرورش کرنا) میں سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے، یا مصدر ہے جو مبالغہ کے لیے اسم فاعل کی جگہ استعمال ہوا ہے، جیسے {زَيْدٌ عَدْلٌ زَيْدٌ عَادِلٌ} کی جگہ استعمال ہوتا ہے، یعنی زید اتنا عادل ہے کہ اس کا وجود ہی عدل ہے۔ اللہ تعالیٰ میں یہ تینوں صفات بدرجۂ اتم موجود ہیں، اس سے بڑا سید کوئی نہیں، وہی سب کا مالک ہے اور ہر ایک کو پیدائش سے کمال تک پہنچانے والا اور اس کی ہر ضرورت پوری کرنے والا بھی وہی ہے، گویا وہ ذات پاک سراپا پرورش ہے۔
➑ { الْعٰلَمِيْنَ اَلْعَالَمُ} کی جمع ہے، جہان۔ {اَلْعَالَمُ} جمع ہے جس کا واحد نہیں، جیسے {قَوْمٌ، رَهْطٌ، نَاسٌ} وغیرہ۔ معنی اس کا ہے: { مَا يُعْلَمُ بِهِ الشَّيْءُ} جس کے ذریعے سے کسی چیز کا علم حاصل ہو، جیسا کہ {خَاتَمٌ} کا معنی ہے: {مَا يُخْتَمُ بِهِ} جس کے ساتھ مہر لگائی جائے۔ عرب یہ وزن آلہ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جہان کو عالم اس لیے کہتے ہیں کہ کوئی بھی مخلوق ہو اس کے ذریعے سے خالق کا علم حاصل ہوتا ہے کہ اسے پیدا کرنے والا موجود ہے۔ {الْعٰلَمِيْنَ } کو جمع اس لیے ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ہر مخلو ق ایک الگ جہان ہے، مثلاً عالم انس، عالم جن، عالم نبات، عالم جماد، عالم ارض اور عالم سماء وغیرہ۔ پھر ان میں سے ہر ایک کے کئی عالم ہیں، مثلاً انسانوں میں ہر جنس، ہر زبان اور ہر علاقے والوں کا الگ جہان ہے۔ غرض اتنے بے حساب جہاں ہیں جنھیں رب تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، فرمایا: «‏‏‏‏وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ھُوَ» ‏‏‏‏ [المدثر: ۳۱] اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ایک چیونٹی ہی کی ہزاروں قسمیں ہیں، پرندوں کے بے شمار جہان ہیں، سمندر کی مخلوقات کا شمار ہی نہیں، بے شمار کہکشائیں اور ان کے سیارے جن کے مقابلے میں سورج چاند وغیرہ ایک انگوٹھی کی طرح ہیں، ہر ایک الگ جہان ہے۔ ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے وحدہ لا شریک لہ ہونے کے علم کا ذریعہ ہے۔ رب العالمین ان میں سے ہر ایک کو پیدا کرنے والا، پھر ہر لمحہ اس کی ہر ضرورت پوری کرنے والا اور اسے کمال تک پہنچانے والا ہے۔ غرض سب تعریف اللہ کے لیے ہے، کیونکہ وہ { رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ } ہے۔
➒ { اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ } کے بعد اللہ تعالیٰ کی چار صفات بیان ہوئی ہیں، پہلی صفت { رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ } میں قرآن کے بنیادی مضامین میں سے توحید کے علاوہ وعدہ اور وعید دونوں موجود ہیں کہ پرورش کرنے والا خوش ہو کر نوازتا ہے تو ناراض ہو کر محروم بھی کر دیا کرتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

«اَلْحَمْدُ» میں «ال» مخصوص کے لئے ہے یعنی تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں یا اس کے لئے خاص ہیں کیونکہ تعریف کا اصل مستحق اور سزاوار صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ کسی کے اندر کوئی خوبی، حسن یا کمال ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کا پیدا کردہ ہے اس لئے حمد (تعریف) کا مستحق بھی وہی ہے۔
اللہ یہ اللہ کا ذاتی نام ہے اس کا استعمال کسی اور کے لئے جائز نہیں لَ «ا اِلٰهَ افضل الذكر» اور «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کو افضل دعا کہا گیا ہے۔ [ترمذي، نسائي وغيره]
صحیح مسلم اور نسائی کی روایت میں ہے «اَلْحَمْدُ لِلّهِ» میزان کو بھر دیتا ہے اسی لئے ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ اللہ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ ہر کھانے پر اور پینے پر بندہ اللہ کی حمد کرے۔ [صحيح مسلم]
«رَبْ» اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے، جس کا معنی ہر چیز کو پیدا کر کے ضروریات کو مہیا کرنے اور اس کو تکمیل تک پہنچانے والا۔ اس کے استعمال بغیر اضافت کے کسی اور کے لئے جائز نہیں۔ «الْعَالَمِيْنَ» «عَالَمْ» (جہان) جہان کی جمع ہے۔ ویسے تو تمام خلائق کے مجموعہ کو عالم کہا جاتا ہے، اس لئے اس کی جمع نہیں لائی جاتی۔ لیکن یہاں اس کی ربوبیت کاملہ کے اظہار کے لئے عالم کی بھی جمع لائی گئی ہے، جس سے مراد مخلوق کی الگ الگ جنسیں ہیں۔
مثلاً عالم جن، عالم انس، عالم ملائکہ اور عالم وحوش و طیور وغیرہ۔ ان تمام مخلوقات کی ضرورتیں ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں لیکن «رَبِّ الْعَالَمِيْنَ» سب کی ضروریات، ان کے احوال و ظروف اور طباع و اجسام کے مطابق مہیا فرماتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

2۔ ہر طرح کی تعریف [4] اللہ ہی کے لیے ہے [5] جو سب جہانوں [6] کا پروردگار ہے
[4] حمد اور شکر میں لغوی فرق:۔
«حمد» کا معنی تعریف بھی ہو سکتا ہے اور شکر بھی۔ تعریف «حمد» عام ہے اور شکر خاص۔ «حمد» کا تعلق قابل تعریف کارناموں سے ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان، شمس و قمر اور ستاروں کی حرکت غرض تمام کائنات کا اس قدر مربوط اور منظم نظام بنا دیا ہے جسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس پر اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ اور شکر کا تعلق ان خاص انعامات سے ہوتا ہے جو کسی خاص ذات سے متعلق ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا انسان کو احسن تقویم پر پیدا کرنا۔ کسی کو صحت اور رزق کی فراوانیوں سے مالا مال کرنا۔ ایسی نعمتوں کے اعتراف کو شکر کہا جاتا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ ہی ہر طرح کی حمد اور شکر کا مستحق ہوا۔ علاوہ ازیں اگر مخلوق میں سے کوئی شخص کوئی قابل تعریف کارنامہ سر انجام دے اور اس پر اس کی تعریف کی جائے تو وہ بھی حقیقتاً اللہ تعالیٰ ہی کی تعریف ہو گی۔ کیونکہ قابل تعریف کام کرنے کی صلاحیت اور توفیق بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ گویا ہر طرح کی تعریف کا مستحق اللہ تعالیٰ ہی قرار پاتا ہے۔
[5] اللہ در اصل الالٰہ ہے، معبود حقیقی۔ الٰہ کا ہمزہ حذف کر کے اس پر تعریف کا الف لام داخل کر کے اللہ کا لفظ بنا ہے اور یہی توجیہ سب سے بہتر ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت میں ہر طرح کے نفع و نقصان کا مالک صرف اور صرف اللہ ہے اور کائنات کا خالق، پروردگار اور لا محدود اقتدار و اختیار ہونے کی وجہ سے صرف وہی عبادت کے لائق ہے۔ یعنی وہ تمام صفات جو الٰہ کے مفہوم میں پائی جانی چاہئیں وہ صرف اللہ میں ہی پائی جا سکتی ہیں۔ لہٰذا دوسرے سب الٰہ باطل اور ناقابل اعتبار ہیں اور اس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔
رب کا لفظ تین معنوں میں آتا ہے:
(1) کسی چیز کی درجہ بدرجہ تربیت اور خبرگیری رکھتے ہوئے اسے حد کمال تک پہچانے والا یعنی پروردگار حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
(2) کبھی یہ لفظ صرف تربیت (پرورش) کرنے والے مالک کے معنوں میں آتا ہے۔ جیسے سورۃ یوسف میں آتا ہے ﴿أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا [12: 41]
(3) اور کبھی صرف مالک کے معنوں میں جیسے حدیث میں ہے کہ کسی صحابی نے اپنی شہادت کے وقت فرمایا: «فُزْتُ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ» (کعبہ کے مالک کی قسم! میں کامیاب ہو گیا)
[6] عالمین سے مراد اور اللہ کی تعریف کی وجہ:۔
«العالمين» لغوی لحاظ سے عالم ہر وہ چیز ہے جس کا علم حواس خمسہ سے ہو سکتا ہو۔ اس لحاظ سے تمام مخلوقات ایک عالم ہے مگر اس آیت میں عالم سے مراد جنس ہے (عالم غیب، عالم شہادۃ، عالم انس، عالم جن، عالم ملائکہ وغیرہ وغیرہ) بے شمار عالم ہیں۔ پھر زمانہ کے لحاظ سے ہر دور کے لوگ ایک عالم ہیں۔ دور بدلنے پر عالم بھی بدل جاتا ہے۔ اس طرح عالم کی سینکڑوں اور ہزاروں اقسام بن جاتی ہیں اور ان تمام عالموں کی تربیت اور پرورش کرنے والی صرف اللہ ہی کی بلند و برتر ذات ہے۔ اس آیت کے پہلے حصہ میں یہ مذکور ہوا کہ ہر طرح کی تعریف صرف اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے اور اس حصہ میں اس کی وجہ بتائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی تعریف کا اس لیے مستحق ہے کہ وہ تمام جہانوں کا تربیت کرنے والا ہے۔
نیز یہ آیت اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے کے آداب میں سے پہلا ادب ہے۔ حسن طلب کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ جب کسی سے کچھ مانگنا ہو تو اس کی ابتدا اس کے محاسن کے تذکرہ سے کی جاتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

الحمد اللہ کی تفسیر ٭٭
ساتوں قاری «الْحَمْدُ» کو دال پر پیش سے پڑھتے ہیں اور «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کو مبتدا خبر مانتے ہیں۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ اور روبہ بن عجاج رحمہ اللہ کا قول ہے کہ «دال» پر زبر کے ساتھ ہے اور فعل یہاں مقدر ہے۔
ابن ابی عبلہ رحمہ اللہ «الْحَمْدُ» کی «دال» کو اور «الله» کے پہلے «لام» دونوں کو پیش کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس «لام» کو پہلے کے تابع کرتے ہیں اگرچہ اس کی شہادت عربی زبان میں ملتی ہے، مگر شاذ ہے۔
حسن رحمہ اللہ اور زید بن علی رحمہ اللہ ان دونوں حرفوں کو زیر سے پڑھتے ہیں اور «لام» کے تابع «دال» کو کرتے ہیں۔
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کے معنی یہ ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اس کے سوا کوئی اس کے لائق نہیں، خواہ وہ مخلوق میں سے کوئی بھی ہو اس وجہ سے کہ تمام نعمتیں جنہیں ہم گن بھی نہیں سکتے، اس مالک کے سوا اور کوئی ان کی تعداد کو نہیں جانتا اسی کی طرف سے ہیں۔ اسی نے اپنی اطاعت کرنے کے تمام اساب ہمیں عطا فرمائے۔ اسی نے اپنے فرائض پورے کرنے کے لیے تمام جسمانی نعمتیں ہمیں بخشیں۔ پھر بےشمار دنیاوی نعمتیں اور زندگی کی تمام ضروریات ہمارے کسی حق بغیر ہمیں بن مانگے بخشیں۔ اس کی لازوال نعمتیں، اس کے تیار کردہ پاکیزہ مقام جنت کو ہم کس طرح حاصل کر سکتے ہیں؟ یہ بھی اس نے ہمیں سکھا دیا پس ہم تو کہتے ہیں کہ اول آخر اسی مالک کی پاک ذات ہر طرح کی تعریف اور حمد و شکر کے لائق ہے ۱؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:125/1]‏‏‏‏
«الْحَمْدُ لِلَّهِ» یہ ثنا کا کلمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ثنا و خود آپ کی ہے اور اسی ضمن میں گویا یہ فرما دیا ہے کہ تم کہو «الْحَمْدُ لِلَّهِ» بعض نے کہا کہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کہنا اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ ناموں اور اس کی بلند و بالا صفتوں سے اس کی ثنا کرنا ہے۔ اور «الشُّكْرُ لِلَّهِ» کہنا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان کا شکریہ ادا کرنا ہے ۱؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:138/1]‏‏‏‏ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ عربی زبان کو جاننے والے علماء کا اتفاق ہے۔ کہ شکر کی جگہ حمد کا لفظ اور حمد کی جگہ شکر کا لفظ بولتے ہیں۔ جعفر صادق رحمہ اللہ، ابن عطا صوفی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہر شکر کرنے والے کا کلمہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ہے۔
قرطبی رحمہ اللہ نے ابن جریر رحمہ اللہ کے قول کو معتبر کرنے کے لیے یہ دلیل بھی بیان کی ہے کہ اگر کوئی «الْحَمْدُ لِلَّهِ شُكْرًا» کہے تو جائز ہے۔
دراصل علامہ ابن جریر رحمہ اللہ کے اس دعویٰ میں اختلاف ہے، پچھلے علماء میں مشہور ہے کہ «حَمْدَ» کہتے ہیں زبانی تعریف بیان کرنے کو خواہ جس کی حمد کی جاتی ہو اس کی لازم صفتوں پر ہو یا متعدی صفتوں پر اور شکر صرف متعدی صفتوں پر ہوتا ہے اور وہ دل زبان اور جملہ ارکان سے ہوتا ہے۔ عرب شاعروں کے اشعار بھی اس پر دلیل ہیں۔
ہاں اس میں اختلاف ہے کہ «حَمْدَ» کا لفظ عام ہے یا «شُّكْر» کا اور صحیح بات یہ ہے کہ اس میں عموم اس حیثیت سے خصوص ہے کہ «حَمْدَ» کا لفظ جس پر واقع ہو وہ عام طور پر «شُّكْر» کے معنوں میں آتا ہے۔ اس لیے کہ وہ لازم اور متعدی دونوں اوصاف پر آتا ہے شہ سواری اور کرم دونوں پر «حَمِدْتُهُ» کہہ سکتے ہیں لیکن اس حیثیت سے وہ صرف زبان سے ادا ہو سکتا ہے یہ لفظ خاص اور «شُّكْر» کا لفظ عام ہے کیونکہ وہ قول، فعل اور نیت تینوں پر بولا جاتا ہے اور صرف متعدی صفتوں پر بولے جانے کے اعتبار سے «شُّكْر» کا لفظ خاص ہے۔ شہ سواری کے حصول پر «شَكَرْتُهُ» نہیں کہہ سکتے البتہ «شَكَرْتُهُ عَلَى كَرَمِهِ وَإِحْسَانِهِ إِلَيَّ» کہہ سکتے ہیں۔ یہ تھا خلاصہ متاخرین کے قول کا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابونصر اسماعیل بن حماد جوہری کہتے ہیں «حمد» مقابل ہے «ذم» کے۔ لہٰذا یوں کہتے ہیں کہ «حَمِدْتُ الرَّجُلَ أَحْمَدُهُ حَمْدًا وَمَحْمَدَةً فَهُوَ حَمِيدٌ وَمَحْمُودٌ» تحمید میں «حمد» سے زیادہ مبالغہ ہے۔ «حمد» «شکر» سے عام ہے۔ کسی محسن کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کی ثنا کرنے کو «شکر» کہتے ہیں۔ عربی زبان میں «شَكَرْتُهُ» اور «شَكَرْتُ لَهُ» دونوں طرح کہتے ہیں لیکن «لام» کے ساتھ کہنا زیادہ فصیح ہے۔ مدح کا لفظ «حمد» سے بھی زیادہ عام ہے اس لیے کہ زندہ مردہ بلکہ جمادات پر بھی مدح کا لفظ بول سکتے ہیں۔ کھانے اور مکان کی اور ایسی اور چیزوں کی بھی مدح کی جاتی ہے احسان سے پہلے، احسان کے بعد، لازم صفتوں پر، متعدی صفتوں پر بھی اس کا اطلاق ہو سکتا ہے تو اس کا عام ہونا ثابت ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
حمد کی تفسیر اقوال سلف سے ٭٭
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ «سُبْحَانَ اللَّهِ» اور «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اور بعض روایتوں میں ہے کہ «اللَّهُ أَكْبَرُ» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کا کیا مطلب؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس کلمہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے پسند فرما لیا ہے اور بعض روایتوں میں ہے کہ اس کا کہنا اللہ کو بھلا لگتا ہے ۱؎۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:15/1:ضعیف]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ کلمہ شکر ہے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میرا شکر کیا ۲؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:151]‏‏‏‏ اس کلمہ میں شکر کے علاوہ اس کی نعمتوں، ہدایتوں اور احسان وغیرہ کا اقرار بھی ہے۔ کعب احبار رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کی ثنا ہے۔ ضحاک کہتے ہیں یہ اللہ کی چادر ہے۔
ایک حدیث میں بھی ایسا ہی ہے {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تم «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کہہ لو گے تو تم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کر لو گے اب اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے گا} ۳؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:152:ضعیف]‏‏‏‏
{اسود بن سریع ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ میں نے ذات باری تعالیٰ کی حمد میں چند اشعار کہے ہیں اگر اجازت ہو تو سناؤں فرمایا: اللہ تعالیٰ کو اپنی حمد بہت پسند ہے} ۴؎۔ [مسند احمد:435/3:حسن]‏‏‏‏
ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افضل ذکر «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ہے اور افضل دعا «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ہے } ۱؎۔ [سنن ترمذي:3383،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن غریب کہتے ہیں۔
ابن ماجہ کی ایک حدیث ہے کہ {جس بندے کو اللہ تعالیٰ نے کوئی نعمت دی اور وہ اس پر «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کہے تو دی ہوئی نعمت لے لی ہوئی سے افضل ہو گی} ۲؎۔ [سنن ابن ماجہ:3805،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
فرماتے ہیں اگر میری امت میں سے کسی کو اللہ تعالیٰ تمام دنیا دے دے اور وہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کہے تو یہ کلمہ ساری دنیا سے افضل ہو گا۔
قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ساری دنیا دے دینا اتنی بڑی نعمت نہیں جتنی «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کہنے کی توفیق دینا ہے اس لیے کہ دنیا تو فانی ہے اور اس کلمہ کا ثواب باقی ہی باقی ہے ۱؎۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:876،ضعیف]‏‏‏‏
جیسے کہ قرآن پاک میں ہے «الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا» ۲؎ [18-الكهف:46]‏‏‏‏ الخ یعنی ’مال اور اولاد دنیا کی زینت ہے اور نیک اعمال ہمیشہ باقی رہنے والے، ثواب والے اور نیک امید والے ہیں‘۔
ابن ماجہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص نے ایک مرتبہ کہا «يَا رَبِّ، لَكَ الْحَمْدُ كَمَا يَنْبَغِي لِجَلَالِ وَجْهِكَ وَعَظِيمِ سُلْطَانِكَ» تو فرشتے گھبرا گئے کہ ہم اس کا کتنا اجر لکھیں۔ آخر اللہ تعالیٰ سے انہوں نے عرض کی کہ تیرے ایک بندے نے ایک ایسا کلمہ کہا ہے کہ ہم نہیں جانتے اسے کس طرح لکھیں، پروردگار نے باوجود جاننے کے ان سے پوچھا کہ اس نے کیا کہا ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ اس نے یہ کلمہ کہا ہے، فرمایا: تم یونہی اسے لکھ لو میں اس اسے اپنی ملاقات کے وقت اس کا اجر دے دوں گا} ۳؎۔ [سنن ابن ماجہ:3801،قال الشيخ الألباني:ضعيف]‏‏‏‏
قرطبی رحمہ اللہ ایک جماعت علماء سے نقل کرتے ہیں کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» سے بھی «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» افضل ہے کیونکہ اس میں توحید اور حمد دونوں ہیں۔
اور علماء کا خیال ہے کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» افضل ہے اس لیے کہ ایمان و کفر میں یہی فرق کرتا ہے، اس کے کہلوانے کے لیے کفار سے لڑائیاں کی جاتی ہیں۔ جیسے کہ صحیح بخاری و مسلم حدیث میں ہے ۱؎ [صحیح بخاری:1399]‏‏‏‏
ایک اور مرفوع حدیث میں ہے کہ {جو کچھ میں نے اور مجھ سے پہلے کے تمام انبیاء کرام نے کہا ہے ان میں سب سے افضل «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ» ہے} ۲؎۔ [سنن ترمذي:3585،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی ایک مرفوع حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ {افضل ذکر «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ہے اور افضل دعا «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ہے} ۳؎۔ [سنن ترمذي:3383،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔
الحمد میں «الف» «لام» استغراق کا ہے یعنی حمد کی تمام تر قسمیں سب کی سب صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ثابت ہیں۔ جیسے کہ حدیث میں ہے کہ باری تعالیٰ تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں اور تمام ملک ہے۔ تیرے ہی ہاتھ تمام بھلائیاں ہیں اور تمام کام تیری ہی طرف لوٹتے ہیں ۱؎۔ [مسند احمد:346/5:ضعیف]‏‏‏‏
«رب» کہتے ہیں «مَالِكُ» اور «مُتَصَرِّفُ» کو لغت میں اس کا اطلاق سردار اور اصلاح کے لیے تبدیلیاں کرنے والے پر بھی ہوتا ہے اور ان سب معانی کے اعتبار سے ذات باری تعالیٰ کے لیے یہ خوب جچتا ہے۔
«رب» کا لفظ بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے دوسرے پر نہیں کہا جا سکتا ہاں اضافت کے ساتھ ہو تو اور بات ہے جیسے «رَبُّ الدَّارِ» یعنی گھر والا وغیرہ۔ بعض کا تو قول ہے کہ اسم اعظم یہی ہے۔
عالمین سے مراد ٭٭
«الْعَالَمِينَ» جمع ہے «عَالَمٍ» کی اللہ تعالیٰ کے سوا تمام مخلوق کو «عَالَمٍ» کہتے ہیں۔ لفظ «عَالَمٍ» بھی جمع ہے اور اس کا واحد لفظ ہے ہی نہیں۔ آسمان کی مخلوق خشکی اور تری کی مخلوقات کو بھی «عَوَالِمُ» یعنی کئی «عَالَمٍ» کہتے ہیں۔ اسی طرح ایک ایک زمانے، ایک ایک وقت کو بھی «عَالَمٍ» کہا جاتا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس سے مراد کل مخلوق ہے خواہ آسمانوں کی ہو یا زمینوں کی یا ان کے درمیان کی، خواہ ہمیں اس کا علم ہو یا نہ ہو۔ «علی ہذا القیاس» اس سے جنات اور انسان بھی مراد لیے گئے ہیں۔ سعید بن جیر مجاہد اور ابن جریح رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہ مروی ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی غیر معتبر سند سے یہی منقول ہے اس قول کی دلیل قرآن کی آیت «لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:1]‏‏‏‏ بھی بیان کی جاتی ہے یعنی تاکہ وہ «عَالَمِينَ» یعنی جن اور انس کے لیے ڈرانے والا ہو جائے۔
فراء اور ابوعبید کا قول ہے کہ سمجھدار کو عالم کہا جاتا ہے۔ لہٰذا انسان، جنات، فرشتے، شیاطین کو عالم کہا جائے گا۔ جانوروں کو نہیں کہا جائے گا۔ سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ، ابو محیص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر روح والی چیز کو عالم کہا جاتا ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں۔ ہر قسم کو ایک عالم کہتے ہیں مروان بن محمد عرف جعد جن کا لقب حمار تھا جو بنوامیہ میں سے اپنے زمانے کے خلیفہ تھے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سترہ ہزار عالم پیدا کئے ہیں۔ آسمانوں والے ایک عالم، زمینوں والے سب ایک عالم اور باقی کو اللہ ہی جانتا ہے مخلوق کو ان کا علم نہیں۔
ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں انسان کل ایک عالم ہیں، سارے جنات کا ایک عالم ہے اور ان کے سوا اٹھارہ ہزار یا چودہ ہزار عالم اور ہیں۔ فرشتے زمین پر ہیں اور زمین کے چار کونے ہیں، ہر کونے میں ساڑھے تین ہزار عالم ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہ قول بالکل غریب ہے اور ایسی باتیں جب تک کسی صحیح دلیل سے ثابت نہ ہوں ماننے کے قابل نہیں ہوتیں۔
حمیری رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک ہزار امتیں ہیں، چھ سو تری میں اور چار سو خشکی میں۔ سعید بن مسیب سے یہ بھی مروی ہے۔ ایک ضعیف روایت میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں ایک سال ٹڈیاں نہ نظر آئیں بلکہ تلاش کرنے کے باوجود پتہ نہ چلا۔ آپ غمگین ہو گئے یمن، شام اور عراق کی طرف سوار دوڑائے کہ کہیں بھی ٹڈیاں نظر آتی ہیں یا نہیں تو یمن والے سوار تھوڑی سی ٹڈیاں لے کر آئے اور امیر المؤمنین کے سامنے پیش کیں آپ نے انہیں دیکھ کر تکبیر کہی اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور چار سو خشکی میں ان میں سے سب سے پہلے جو امت ہلاک ہو گی وہ ٹڈیاں ہوں گی بس ان کی ہلاکت کے بعد پے در پے اور سب امتیں ہلاک ہو جائیں گی جس طرح کہ تسبیح کا دھاگا ٹوٹ جائے اور ایک کے بعد ایک سب موتی جھڑ جاتے ہیں ۱؎۔ [مجمع الزوائد:322/7:باطل موضوع]‏‏‏‏ اس حدیث کے راوی محمد بن عیسیٰ ہلالی ضعیف ہیں۔ سعید بن میب رحمہ اللہ سے بھی یہ قول مروی ہے۔
وہب بن منبہ فرماتے ہیں اٹھارہ ہزار عالم ہیں، دنیا کی ساری کی ساری مخلوق ان میں سے ایک عالم ہے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چالیس ہزار عالم ہیں ساری دنیا ان میں سے ایک عالم ہے۔ زجاج کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے دنیا آخرت میں جو کچھ پیدا کیا ہے وہ سب عالم ہے۔ قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ قول صحیح ہے اس لیے کہ یہ تمام عالمین پر مشتمل لفظ ہے۔ جیسے فرعون کے اس سوال کے جواب میں رب العالمین کون ہے؟ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ «رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا» ۱؎ [26-الشعراء:23]‏‏‏‏ آسمانوں زمینوں اور دونوں کے درمیان جو کچھ ہے ان سب کا رب۔‏‏‏‏
«عالم» کا لفظ علامت سے مشتق ہے اس لیے کہ «عالم» یعنی مخلوق اپنے پیدا کرنے والے اور بنانے والے پر نشان اور اس کی وحدانیت پر علامت ہے ۲؎۔ [تفسیر قرطبی:139/1]‏‏‏‏
جیسے کہ ابن معتز شاعر کا قول ہے۔ «فَيَا عَجَبًا كَيْفَ يُعْصَى الْإِلَهُ ... أَمْ كَيْفَ يَجْحَدُهُ الْجَاحِدُ ... وَفِي كُلِّ شَيْءٍ لَهُ آيَةً ... تَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ وَاحِدُ» یعنی تعجب ہے کس طرح اللہ کی نافرمانی کی جاتی ہے اور کس طرح اس سے انکار کیا جاتا ہے حالانکہ ہر چیز میں نشانی ہے جو اس کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہے «الْحَمْدُ» کے بعد اب «الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ» کی تفسیر سنئے۔