کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے ایک پاکیزہ کلمہ کی مثال کیسے بیان فرمائی (کہ وہ) ایک پاکیزہ درخت کی طرح (ہے) جس کی جڑ مضبوط ہے اور جس کی چوٹی آسمان میں ہے۔
En
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے (وہ ایسی ہے) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط (یعنی زمین کو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیں آسمان میں
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکیزه بات کی مثال کس طرح بیان فرمائی، مثل ایک پاکیزه درخت کے جس کی جڑ مضبوط ہے اور جس کی ٹہنیاں آسمان میں ہیں
En
24۔ آپ دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ [30] (توحید) کی کیسی عمدہ مثال بیان کی ہے جیسے وہ ایک پاکیزہ [31] درخت ہو جس کی جڑ (زمین میں خوب) جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں
[30] کلمہ طیبہ کے لغوی معنی ہے ”پاکیزہ بات“ اور اس سے مراد کلمہ توحید یعنی ﴿لاَاِلٰهَالآَاللّٰهُ﴾ ہے۔ یہی وہ کلمہ ہے کہ جب عقیدہ و عمل کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ جہاں تمام تر بھلائیوں کی بنیاد بن جاتا ہے وہاں ہر طرح کی برائی کی جڑ بھی کاٹ پھینکتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر نبی نے اپنی دعوت کا آغاز اسی کلمہ سے کیا ہے۔
[31] کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ ہے:۔
پاکیزہ درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے اور پاکیزہ درخت کی مومن سے مثال پیش کی گئی ہے جس کے دل میں کلمہ طیبہ یا کلمہ توحید رچ بس گیا ہو۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا ”بتاؤ وہ درخت کون سا ہے جس کے پتے نہیں گرتے۔ مسلمان کی مثال اسی درخت کی سی ہے اور یہ بھی نہیں ہوتا اور یہ بھی نہیں ہوتا، یہ بھی نہیں ہوتانہ تو اس کا پھل ختم ہوتا ہے اور نہ اس کا دانہ معدوم ہوتا اور نہ اس کا نفع ضائع جاتا ہے، اور ہر وقت میوہ دیتا ہے؟“ اس وقت میرے دل میں خیال آیا وہ کھجور کا درخت ہے مگر جب میں نے دیکھا کہ ابو بکرؓ اور عمرؓ جیسے بزرگ خاموش بیٹھے ہیں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔ پھر آپ نے خود ہی بتا دیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ جب ہم اس مجلس سے اٹھ آئے تو میں نے اپنے والد سے کہا ”ابا جان! اللہ کی قسم! میرے دل میں یہ بات آئی تھی کہ وہ کھجور کا درخت ہے“ انہوں نے کہا: ”پھر تم نے کہہ کیوں نہ دیا؟“ میں نے کہا: ”آپ سب خاموش رہے تو میں نے (آگے بڑھ کر بات کرنا) مناسب نہ سمجھا“ میرے والد کہنے لگے: ”اگر تم کہہ دیتے تو مجھے اتنا اتنا مال ملنے سے زیادہ خوشی ہوتی“ [بخاري۔ كتاب التفسير] اور اللہ تعالیٰ نے شجرہ طیبہ کی چار صفات بیان فرمائیں (1) وہ طیب اور پاکیزہ ہے۔ اس کی یہ عمدگی خواہ شکل و صورت کے اعتبار سے ہو یا پھل پھول کے اعتبار سے یا پھل کے خوش ذائقہ، شیریں اور خوشبو دار ہونے کے اعتبار سے ہو۔ (2) اس کی جڑیں زمین میں خوب مستحکم اور گہرائی تک پیوست ہو چکی ہیں اور اس قدر مضبوط ہیں جو اپنے طویل القامت درخت کا بوجھ سہار سکتی ہیں۔ (3) اس کی شاخیں آسمانوں میں یعنی بہت بلندی تک چلی گئی ہیں لہٰذا اس سے جو پھل حاصل ہو گا وہ ہوا کی آلودگی اور گندگی وغیرہ کے جراثیم سے پاک و صاف ہو گا۔ (4) یہ عام درختوں کی طرح نہیں بلکہ ہر موسم میں پورا پھل دیتا ہے اور یہ باتیں کھجور کے درخت اور پھل میں پائی جاتی ہیں۔ اسی لیے اس درخت کو حدیث میں شجرہ طیبہ کہا گیا ہے اور ممکن ہے کہ اللہ کے علم میں کوئی ایسا درخت بھی ہو جو ہر وقت پھل دیتا ہو جیسا کہ آیت کے الفاظ سے متبادر ہوتا ہے۔ نیز اللہ نے شجرہ طیبہ کو کلمہ طیبہ کے مثل قرار دیا ہے اور کلمہ طیبہ میں یہ صفت بدرجہ اتم موجود ہے۔ وہ سدا بہار ہے اور ہر وقت اپنے صالح برگ و بار لاتا رہتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔