کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: (مرسل حدیث کا حکم)
حدیث نمبر: Q3962
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْحَدِيثُ إِذَا كَانَ مُرْسَلا؛ فَإِنَّهُ لا يَصِحُّ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْحَدِيثِ، قَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْهُمْ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں : جب حدیث مرسل ہو تو وہ اہل حدیث کی اکثریت کے نزدیک صحیح نہیں ہے ، کئی ائمہ حدیث نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3962
حدیث نمبر: Q3962
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ قَالَ: سَمِعَ الزُّهْرِيُّ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ يَقُولُ: "قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: قَاتَلَكَ اللَّهُ يَا ابْنَ أَبِي فَرْوَةَ! تَجِيئُنَا بِأَحَادِيثَ لَيْسَتْ لَهَا خُطُمٌ وَلا أَزِمَّةٌ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ عتبہ بن ابی حکیم کہتے ہیں : زہری نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ کو «قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم» کہتے سنا تو کہا : اے ابن فروہ ! اللہ تم سے جنگ کرے ، تم ایسی حدیث ہمارے پاس لے کر آئے ہو جس کی نکیل ہے نہ لگام ( جس کا نہ سر نہ پیر ) ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3962
حدیث نمبر: Q3962
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: مُرْسَلاتُ مُجَاهِدٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مُرْسَلاتِ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ بِكَثِيرٍ، كَانَ عَطَائٌ يَأْخُذُ عَنْ كُلِّ ضَرْبٍ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ علی بن المدینی سے روایت ہے کہ یحییٰ بن سعید القطان کہتے ہیں : میرے نزدیک مجاہد کی مراسیل ؛ عطاء بن ابی رباح کی مراسیل سے زیادہ پسندیدہ ہیں ، عطا سب سے روایت کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3962
حدیث نمبر: Q3962
قَالَ عِلِيٌّ: قَالَ يَحْيَى: مُرْسَلاتُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مُرْسَلاتِ عَطَائٍ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ علی بن المدینی کہتے ہیں : میرے نزدیک سعید بن جبیر کی مراسیل عطاء کی مراسیل سے زیادہ پسندیدہ ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3962
حدیث نمبر: Q3962
قُلْتُ لِيَحْيَى: مُرْسَلاتُ مُجَاهِدٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ مُرْسَلاتُ طَاوُسٍ؟ قَالَ: مَا أَقْرَبَهُمَا.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ علی بن المدینی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن سعید القطان سے پوچھا : مجاہد کی مراسیل آپ کے نزدیک زیادہ اچھی ہیں یا طاؤس کی ؟ کہا : دونوں قریب قریب ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3962
حدیث نمبر: Q3962
قَالَ عَلِيٌّ: وَسَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: مُرْسَلاتُ أَبِي إِسْحَاقَ عِنْدِي شِبْهُ لا شَيْئَ، وَالأَعْمَشُ، وَالتَّيْمِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، وَمُرْسَلاتُ ابْنِ عُيَيْنَةَ شِبْهُ الرِّيحِ، ثُمَّ قَالَ: إِي وَاللَّهِ! وَسُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ علی بن المدینی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن سعید القطان کو کہتے سنا : ابواسحاق سبیعی کی مراسیل میرے نزدیک تقریباً کچھ بھی نہیں ہیں ، ایسے ہی اعمش ، تیمی ، یحییٰ بن ابی کثیر ، اور ابن عیینہ کی مراسیل سب ہوا کی مانند ہیں ، پھر کہا : ہاں ، اللہ کی قسم ! اور سفیان بن سعید ثوری کی مراسیل بھی ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3962
حدیث نمبر: Q3962
قُلْتُ لِيَحْيَى: فَمُرْسَلاتُ مَالِكٍ؟ قَالَ: هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ، ثُمَّ قَالَ يَحْيَى: لَيْسَ فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ أَصَحُّ حَدِيثًا مِنْ مَالِكٍ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ علی بن المدینی کہتے ہیں : میں نے یحییٰ بن سعید القطان سے پوچھا : آپ مالک کی مراسیل کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ کہا : یہ مجھے زیادہ پسند ہیں ، پھر یحییٰ بن سعیدالقطان نے کہا : رواۃ حدیث میں مالک سے زیادہ کسی کی حدیث صحیح نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3962
حدیث نمبر: Q3962
حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ، قَال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ يَقُولُ: مَا قَالَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ: "قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِلا وَجَدْنَا لَهُ أَصْلا إِلا حَدِيثًا أَوْ حَدِيثَيْنِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ سوار بن عبداللہ عنبری کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ القطان کو کہتے سنا : حسن بصری اپنی روایت میں جب «قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم» کہتے ہیں تو ایک یا دو حدیث کے علاوہ مجھے ان کی ساری احادیث کی اصل مل گئی ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3962
حدیث نمبر: Q3962
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَمَنْ ضَعَّفَ الْمُرْسَلَ؛ فَإِنَّهُ ضَعَّفَهُ مِنْ قِبَلِ أَنَّ هَؤُلائِ الأَئِمَّةَ قَدْ حَدَّثُوا عَنْ الثِّقَاتِ وَغَيْرِ الثِّقَاتِ؛ فَإِذَا رَوَى أَحَدُهُمْ حَدِيثًا، وَأَرْسَلَهُ؛ لَعَلَّهُ أَخَذَهُ عَنْ غَيْرِ ثِقَةٍ. قَدْ تَكَلَّمَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ، ثُمَّ رَوَى عَنْهُ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں : اور مرسل کو ضعیف کہنے والوں کی دلیل یہ ہے کہ ان ائمہ نے ثقہ اور غیر ثقہ ہر طرح کے رواۃ سے روایت کی ہے ، تو جب ایک راوی نے نے کوئی حدیث روایت کی اور اس کو مرسل بیان کیا تو ہو سکتا ہے کہ اس نے غیر ثقہ راوی سے اس کی روایت کی ہو چنانچہ حسن بصری نے معبد جہنی پر جرح کی پھر اس سے روایت کی ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3962
حدیث نمبر: Q3962
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِالْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنِي أَبِي وَعَمِّي قَالا: سَمِعْنَا الْحَسَنَ يَقُولُ: إِيَّاكُمْ وَمَعْبَدًا الْجُهَنِيَّ؛ فَإِنَّهُ ضَالٌّ مُضِلٌّ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ مرحوم بن عبدالعزیز العطار کے والد اور چچا کہتے ہیں کہ ہم نے حسن بصری کو کہتے سنا : تم معبد جہنی سے بچو ، کیونکہ وہ خود گمراہ ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا سے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3962
حدیث نمبر: Q3962
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَيُرْوَى عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ الأَعْوَرُ، وَكَانَ كَذَّابًا. وَقَدْ حَدَّثَ عَنْهُ، وَأَكْثَرُ الْفَرَائِضِ الَّتِي يَرْوِيهَا عَنْ عَلِيٍّ وَغَيْرِهِ هِيَ عَنْهُ. وَقَدْ قَالَ الشَّعْبِيُّ: الْحَارِثُ الأَعْوَرُ عَلَّمَنِي الْفَرَائِضَ، وَكَانَ مِنْ أَفْرَضِ النَّاسِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ امام ترمذی کہتے ہیں : شعبی سے منقول ہے کہ حارث اعور نے ہم سے حدیث روایت کی اور وہ کذاب تھا ، اور اس سے شعبی نے بھی روایت کی ہے ، فرائض کے باب میں علی وغیرہ سے ان کی اکثر روایات کا مصدر حارث اعور ہی ہے ۔ اور شعبی کا قول ہے کہ حارث اعور نے مجھے علم فرائض سکھائے ، حارث علم فرائض میں سب سے ماہر آدمی تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3962
حدیث نمبر: Q3962
قَالَ: و سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ بَشَّارٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ: أَلا تَعْجَبُونَ مِنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ! لَقَدْ تَرَكْتُ لِجَابِرٍ الْجُعْفِيِّ بِقَوْلِهِ؛ لَمَّا حَكَى عَنْهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفِ حَدِيثٍ، ثُمَّ هُوَ يُحَدِّثُ عَنْهُ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں : کیا تم سفیان بن عیینہ پر تعجب نہیں کرو گے ، جابر جعفی نے جب ہزار سے زیادہ احادیث ان سے بیان کیں تو میں نے اس کو ان کے کہنے کی وجہ سے ترک کر دیا ، پھر وہ اس سے روایت کرتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3962
حدیث نمبر: Q3962
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ: وَتَرَكَ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدِيثَ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ محمد بن بشار کہتے ہیں : عبدالرحمٰن بن مہدی نے جابر جعفی کو چھوڑ دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3962