کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: (حدیث سننے اور اسے روایت کرنے میں استعمال ہونے والے صیغے اور ان کے بارے میں محدثین کے مذاہب)
حدیث نمبر: Q3961
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْقِرَائَةُ عَلَى الْعَالِمِ إِذَا كَانَ يَحْفَظُ مَا يُقْرَأُ عَلَيْهِ أَوْ يُمْسِكُ أَصْلَهُ فِيمَا يُقْرَأُ عَلَيْهِ إِذَا لَمْ يَحْفَظْ هُوَ صَحِيحٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِثْلُ السَّمَاعِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ امام ترمذی کہتے ہیں : عالم پر حدیث پڑھنا اگر وہ ان پڑھی جانے والی احادیث کا حافظ ہے ، یا اگر وہ حافظ حدیث نہیں ہے تو اس پر پڑھی جانے والی کتاب کی اصل اس کے ہاتھ میں ہے تو یہ اہل حدیث کے نزدیک سماع کی طرح صحیح ہے ۱؎ ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3961
حدیث نمبر: Q3961
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ فَقُلْتُ لَهُ: كَيْفَ أَقُولُ؟ فَقَالَ: قُلْ: "حَدَّثَنَا".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ ابن جریج کہتے ہیں : میں نے عطاء بن ابی رباح پر پڑھا تو ان سے کہا کہ میں کیسے کہوں ؟ کہا : کہو «حدثنا» ہم سے ( شیخ نے ) اس حدیث کو بیان کیا ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3961
حدیث نمبر: Q3961
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي عِصْمَةَ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنَّ نَفَرًا قَدِمُوا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ بِكِتَابٍ مِنْ كُتُبِهِ فَجَعَلَ يَقْرَأُ عَلَيْهِمْ فَيُقَدِّمُ وَيُؤَخِّرُ فَقَالَ: إِنِّي بَلِهْتُ لِهَذِهِ الْمُصِيبَةِ؛ فَاقْرَئُوا عَلَيَّ؛ فَإِنَّ إِقْرَارِي بِهِ كَقِرَائَتِي عَلَيْكُمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ عکرمہ کہتے ہیں : ابن عباس کے پاس طائف کی ایک جماعت آئی جن کے ہاتھ میں ابن عباس کی کتابوں میں سے ایک کتاب تھی ، تو ابن عباس نے ان پر پڑھنا شروع کر دیا کبھی آگے سے پڑھتے اور کبھی پیچھے سے پڑھنے لگتے اور کہا : میں اس مصیبت سے عاجز ہوں ، تم مجھ پر پڑھو ، میرا اقرار ویسے ہی ہے جیسے میں تم پر پڑھوں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3961
حدیث نمبر: Q3961
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ قَالَ: إِذَا نَاوَلَ الرَّجُلُ كِتَابَهُ آخَرَ فَقَالَ: ارْوِ هَذَا عَنِّي؛ فَلَهُ أَنْ يَرْوِيَهُ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ منصور بن معتمر کہتے ہیں : آدمی جب کسی کو اپنی کتاب ہاتھ میں پکڑا دے اور کہے کہ یہ مجھ روایت کرو تو اس کے لیے جائز ہے کہ اس کی روایت کرے ( اس کو محدثین کی اصطلاح میں «مناولہ» کہتے ہیں ) ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3961
حدیث نمبر: Q3961
و سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ: سَأَلْتُ أَبَا عَاصِمٍ النَّبِيلَ عَنْ حَدِيثٍ فَقَالَ: اقْرَأْ عَلَيَّ؛ فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَقْرَأَ هُوَ فَقَالَ: أَأَنْتَ لا تُجِيزُ الْقِرَائَةَ، وَقَدْ كَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُجِيزَانِ الْقِرَائَةَ؟!.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : میں نے ابوعاصم النبیل سے ایک حدیث کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا : مجھ پر پڑھو ، میں نے یہ پسند کیا کہ وہ پڑھیں تو انہوں نے کہا : کیا تم قراءۃ ( شیخ پر پڑھنے ) کو جائز نہیں کہتے ، جب کہ سفیان ثوری اور مالک بن انس شیخ پر قراءۃ کو جائز کہتے تھے ! ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3961
حدیث نمبر: Q3961
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ مَا قُلْتُ: "حَدَّثَنَا" فَهُوَ مَا سَمِعْتُ مَعَ النَّاسِ وَمَا قُلْتُ: "حَدَّثَنِي" فَهُوَ مَا سَمِعْتُ وَحْدِي وَمَا قُلْتُ: "أَخْبَرَنَا" فَهُوَ مَا قُرِئَ عَلَى الْعَالِمِ وَأَنَا شَاهِدٌ، وَمَا قُلْتُ: "أَخْبَرَنِي" فَهُوَ مَا قَرَأْتُ عَلَى الْعَالِمِ يَعْنِي وَأَنَا وَحْدِي.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ عبداللہ بن وہب کہتے ہیں : میں نے حدیث کی روایت میں «حدثنا» کا صیغہ استعمال کیا تو اس سے مراد وہ احادیث ہیں جن کو ہم نے لوگوں کے ساتھ سنا ، اور جب میں «حدثنا» کہتا ہوں تو وہ میری تنہا مسموعات میں سے ہیں ، اور جب «أخبرنا» کہتا ہوں تو وہ عالم حدیث پر پڑھی جانے والی احادیث ہیں ، جن میں میں حاضر تھا ، اور جب میں «اخبرنی» کہتا ہوں تو وہ میری عالم حدیث پر تنہا پڑھی ہوئی روایات ہوتی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3961
حدیث نمبر: Q3961
وسَمِعْت أَبَا مُوسَى مُحَمَّدَ بْنَ الْمُثَنَّى يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، يَقُولُ: "حَدَّثَنَا" وَ "أَخْبَرَنَا" وَاحِد.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ یحیی بن سعید القطان کہتے ہیں : «حدثنا» اور «أخبرنا» دونوں ہم معنی لفظ ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3961
حدیث نمبر: Q3961
قَالَ أَبُو عِيسَى: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُصْعَبٍ الْمَدِينِيِّ فَقُرِئَ عَلَيْهِ بَعْضُ حَدِيثِهِ فَقُلْتُ لَهُ: كَيْفَ نَقُولُ؟ فَقَالَ: قُلْ: حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں : ہم ابو مصعب کے پاس تھے ، ان پر ان کی بعض احادیث کو پڑھا گیا تو میں نے ان سے کہا : ہم حدیث روایت کرتے وقت کون سا صیغہ استعمال کریں ؟ کہا : کہو : «حدثنا ابو مصعب» یعنی ہم سے ابومصعب نے حدیث بیان کی ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3961
حدیث نمبر: Q3961
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ أَجَازَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الإِجَازَةَ إِذَا أَجَازَ الْعَالِمُ لأَحَدٍ أَنْ يَرْوِيَ عَنْهُ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِهِ فَلَهُ أَنْ يَرْوِيَ عَنْهُ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ امام ترمذی کہتے ہیں : بعض اہل علم نے اجازئہ حدیث کو جائز کہا ہے ، جب عالم حدیث کسی کو اپنی کسی حدیث کی روایت کی اجازت دے تو اس ( مستجیز ) کے لیے جائز ہے کہ وہ مجیز ( یعنی اجازئہ حدیث دینے والے شیخ ) سے روایت کرے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3961
حدیث نمبر: Q3961
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَيْرٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ قَالَ: كَتَبْتُ كِتَابًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ فَقُلْتُ: أَرْوِيهِ عَنْكَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ بشیر بن نہیک کہتے ہیں : میں نے ابوہریرہ کی روایت سے ایک کتاب لکھی تو ان سے کہا کہ میں اسے آپ سے روایت کروں ؟ کہا : ہاں ، روایت کرو ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3961
حدیث نمبر: Q3961
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ عَوْفٍ الأَعْرَابِيِّ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلْحَسَنِ: عِنْدِي بَعْضُ حَدِيثِكَ أَرْوِيهِ عَنْكَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ محمد بن اسماعیل واسطی نے ہم سے بیان کیا ان سے محمد بن الحسن واسطی نے بیان کیا وہ عوف اعرابی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حسن بصری سے کہا : میرے پاس آپ کی بعض احادیث ہیں ، کیا میں انہیں آپ سے روایت کروں ؟ کہا : ہاں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3961
حدیث نمبر: Q3961
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ إِنَّمَا يُعْرَفُ بِمَحْبُوبِ بْنِ الْحَسَنِ، وَقَدْ حَدَّثَ عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الأَئِمَّةِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں : محمد بن الحسن ” محبوب بن الحسن “ کے نام سے معروف ہیں ، ان سے کئی ائمہ نے روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3961
حدیث نمبر: Q3961
حَدَّثَنَا الْجَارُودُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَتَيْتُ الزُّهْرِيَّ بِكِتَابٍ؛ فَقُلْتُ له: هَذَا مِنْ حَدِيثِكَ، أَرْوِيهِ عَنْكَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ عبیداللہ بن عمر کہتے ہیں : زہری کے پاس میں ایک کتاب لے کر آیا اور ان سے عرض کیا کہ یہ آپ کی احادیث ہیں ، کیا میں انہیں آپ سے روایت کروں ؟ کہا : ہاں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3961
حدیث نمبر: Q3961
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: جَاءَ ابْنُ جُرَيْجٍ إِلَى هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِكِتَابٍ، فَقَالَ: هَذَا حَدِيثُكَ أَرْوِيهِ عَنْكَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ یحیی بن سعید القطان کہتے ہیں : ابن جریج ، ہشام بن عروہ کے پاس ایک کتاب لے کر آئے اور ان سے کہا یہ آپ کی احادیث ہیں ، کیا میں انہیں آپ سے روایت کروں ؟ کہا : ہاں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3961
حدیث نمبر: 3962
قَالَ يَحْيَى: فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: لاأَدْرِي أَيُّهُمَا أَعْجَبُ أَمْرًا؟.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ یحیی بن سعید القطان کہتے ہیں : میں نے اپنے جی میں کہا : مجھے نہ معلوم ہو سکا کہ دونوں صورتوں میں کون زیادہ تعجب خیز بات ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: 3962
حدیث نمبر: Q3962
وَقَالَ عَلِيٌّ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ عَنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِيِّ؟ فَقَالَ: ضَعِيفٌ؛ فَقُلْتُ: إِنَّهُ يَقُولُ: "أَخْبَرَنِي"! فَقَالَ: لا شَيْئَ، إِنَّمَا هُوَ كِتَابٌ دَفَعَهُ إِلَيْهِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ علی بن المدینی کہتے ہیں : میں نے یحییٰ بن سعید القطان سے ابن جریج کی عطا خراسانی سے روایت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : ضعیف ہے ، میں نے کہا : وہ «أخبرنی» کہتے ہیں ، کہا : بیکار بات ہے ، یہ صرف کتاب ہے جو عطا نے ابن جریج کو دے دی تھی ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3962