کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3825
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّمَا فِي يَدِي قِطْعَةُ إِسْتَبْرَقٍ وَلَا أُشِيرُ بِهَا إِلَى مَوْضِعٍ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ بِي إِلَيْهِ ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " إِنَّ أَخَاكِ رَجُلٌ صَالِحٌ , أَوْ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے خواب میں دیکھا گویا میرے ہاتھ میں موٹے ریشم کا ایک ٹکڑا ہے اور اس سے میں جنت کی جس جگہ کی جانب اشارہ کرتا ہوں تو وہ مجھے اڑا کر وہاں پہنچا دیتا ہے ، تو میں نے یہ خواب ( ام المؤمنین ) حفصہ رضی الله عنہا سے بیان کیا پھر حفصہ رضی الله عنہا نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا : ” تیرا بھائی ایک مرد صالح ہے “ یا فرمایا : ” عبداللہ مرد صالح ہیں “ ۱؎ ۔ امام ترمذی : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: کسی کے صالح ہونے کی شہادت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دیں، اس کے شرف کا کیا پوچھنا!۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3825
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/التہجد 21 (1156) ، والتعبیر 25 (6991) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 31 (2478) ( تحفة الأشراف : 7514) (صحیح)»