حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ وَهُوَ أَبُو الْيَقْظَانِ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ ، وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ أَصْدَقَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ " . قَالَ : وَفِي الْبَابِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَأَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : وَهَذَا حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” آسمان نے کسی پر سایہ نہیں کیا اور نہ زمین نے اپنے اوپر کسی کو پناہ دی جو ابوذر رضی الله عنہ سے زیادہ سچا ہو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- اس باب میں ابو الدرداء اور ابوذر سے حدیثیں آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- اس باب میں ابو الدرداء اور ابوذر سے حدیثیں آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے ابوذر رضی الله عنہ کی سچائی سے متعلق مبالغہ اور تاکید مقصود ہے۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ هُوَ سِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيُّ , عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ ، وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ مِنْ ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ , وَلَا أَوْفَى مِنْ أَبِي ذَرٍّ شِبْهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام " ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : كَالْحَاسِدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَتَعْرِفُ ذَلِكَ لَهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فَاعْرِفُوهُ لَهُ " . قَالَ : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ , فَقَالَ : أَبُو ذَرٍّ يَمْشِي فِي الْأَرْضِ بِزُهْدِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آسمان نے کسی پر سایہ نہیں کیا اور نہ زمین نے کسی کو پناہ دی جو ابوذر سے - جو عیسیٰ بن مریم کے مشابہ ہیں - زیادہ زبان کا سچا اور اس کا پاس و لحاظ رکھنے والا ہو “ ، یہ سن کر عمر بن خطاب رضی الله عنہ رشک کے انداز میں بولے : اللہ کے رسول ! کیا ہم یہ بات انہیں بتا دیں ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، بتا دو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ،
۲- اور بعضوں نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا : ” ابوذر زمین پر عیسیٰ بن مریم کی زاہدانہ چال چلتے ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ،
۲- اور بعضوں نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا : ” ابوذر زمین پر عیسیٰ بن مریم کی زاہدانہ چال چلتے ہیں “ ۔