کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: چھوٹی سے چھوٹی ضرورت بھی اللہ ہی سے مانگی جائے
حدیث نمبر: 3604M
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ السِّجْزِيُّ، حَدَّثَنَا قَطَنٌ الْبَصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَسْأَلْ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ حَاجَتَهُ كُلَّهَا حَتَّى يَسْأَلَ شِسْعَ نَعْلِهِ إِذَا انْقَطَعَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا غَرِيبٌ ، وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَنَسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے ہر ایک اپنی ساری حاجتیں اور ضرورتیں اپنے رب سے مانگے ، یہاں تک کہ جوتے کا تسمہ اگر ٹوٹ جائے تو اسے بھی اللہ ہی سے مانگے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- کئی اور راویوں نے یہ حدیث جعفر بن سلیمان سے اور جعفر نے ثابت بنانی کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، لیکن اس روایت میں انس رضی الله عنہ کے واسطہ کا ذکر نہیں ہے ( یعنی مرسلاً روایت کی ہے جو آگے آ رہی ہے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3604M
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 276) (ضعیف) (اس روایت کا مرسل (بدون ذکر انس) ہونا ہی زیادہ صحیح ہے، اس کے راوی ’’ قطن بن نسیر ‘‘ روایت میں غلطیاں کر جاتے تھے، یہ انہی کی غلطی ہے کہ مرفوعا روایت کر سنن الدارمی/ ہے ملاحظہ ہو: الضعیفة رقم: 1362)»
حدیث نمبر: 3604M
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لِيَسْأَلْ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ حَاجَتَهُ حَتَّى يَسْأَلَهُ الْمِلْحَ، وَحَتَّى يَسْأَلَهُ شِسْعَ نَعْلِهِ إِذَا انْقَطَعَ" وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ قَطَنٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثابت بنانی سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے ہر ایک اپنی ضرورت اپنے رب سے مانگے ، یہاں تک کہ نمک اور اپنے جوتے کا ٹوٹا ہوا تسمہ بھی اسی سے طلب کرے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ روایت قطن کی مذکورہ روایت سے جسے وہ جعفر بن سلیمان سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے ( یعنی : اس کا مرسل ہونا زیادہ صحیح ہے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3604M
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف، وانظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف : 276) (ضعیف)»