کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: تسبیح، تہلیل اور تقدیس کا بیان
حدیث نمبر: 3583
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ حِزَامٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، وغير واحد ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , فَقَالَ : سَمِعْتُ هَانِئَ بْنَ عُثْمَانَ، عَنْ أُمِّهِ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ، عَنْ جَدَّتِهَا يُسَيْرَةَ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ ، قَالَتْ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُنَّ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّقْدِيسِ ، وَاعْقِدْنَ بِالْأَنَامِلِ فَإِنَّهُنَّ مَسْئُولَاتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ ، وَلَا تَغْفُلْنَ فَتَنْسَيْنَ الرَّحْمَةَ " . قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ هَانِئِ بْنِ عُثْمَانَ ، وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عُثْمَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حمیضہ بنت یاسر اپنی دادی یسیرہ رضی الله عنہا سے روایت کرتی ہیں ، یسیرہ ہجرت کرنے والی خواتین میں سے تھیں ، کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” تمہارے لیے لازم اور ضروری ہے کہ تسبیح پڑھا کرو تہلیل اور تقدیس کیا کرو ۱؎ اور انگلیوں پر ( تسبیحات وغیرہ کو ) گنا کرو ، کیونکہ ان سے ( قیامت میں ) پوچھا جائے گا اور انہیں گویائی عطا کر دی جائے گی ، اور تم لوگ غفلت نہ برتنا کہ ( اللہ کی ) رحمت کو بھول بیٹھو “ ۔
امام ترمذی کہتے : ہم اس حدیث کو صرف ہانی بن عثمان کی روایت سے جانتے ہیں اور محمد بن ربیعہ نے بھی ہانی بن عثمان سے روایت کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: «تسبیح» «سبحان اللہ» کہنا، «تہلیل» «لا إله إلا الله» کہنا اور «تقدیس» «سبحان الملک القدوس» یا «سبوح قدوس ربنا ورب الملائکۃ والروح» کہنا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3583
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، صحيح أبي داود (1345) ، المشكاة (2316) ، الضعيفة تحت الحديث (83)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الصلاة 358 (1501) ( تحفة الأشراف : 18301) ، و مسند احمد (6/371) (حسن)»