حدیث نمبر: 3574
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ , فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ , ثُمَّ قُلْ : اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ , وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ , لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ ، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، فَإِنْ مُتَّ فِي لَيْلَتِكَ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ " ، قَالَ : فَرَدَدْتُهُنَّ لِأَسْتَذْكِرَهُ ، فَقُلْتُ : آمَنْتُ بِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، فَقَالَ : قُلْ آمَنْتُ بِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ . قَالَ : وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ الْبَرَاءِ ، وَلَا نَعْلَمُ فِي شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ ذِكْرَ الْوُضُوءُ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم اپنے بستر پر سونے کے لیے جاؤ تو جس طرح نماز کے لیے وضو کرتے ہو ویسا ہی وضو کر کے جاؤ ، پھر داہنے کروٹ لیٹو ، پھر ( یہ ) دعا پڑھو : «اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت» ” اے اللہ ! میں تیرا تابع فرمان بندہ بن کر تیری طرف متوجہ ہوا ، اپنا سب کچھ تجھے سونپ دیا ، تجھ سے ڈرتے ہوئے اور رغبت کرتے ہوئے میں نے تیرا سہارا لیا ، نہ تو میری کوئی امید گاہ ہے اور نہ ہی کوئی جائے نجات ، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے اتاری ہے اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا ہے “ ، پس اگر تو اپنی اس رات میں مر گیا تو فطرت ( اسلام ) پر مرے گا ، براء رضی الله عنہ کہتے ہیں : میں نے دعا کے ان الفاظ کو دہرایا تاکہ یاد ہو جائیں تو دہراتے وقت میں نے کہا : «آمنت برسولك الذي أرسلت» کہہ لیا تو آپ نے فرمایا : ” ( رسول نہ کہو بلکہ ) «آمنت بنبيك الذي أرسلت» کہو ، میں ایمان لایا تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- یہ حدیث براء بن عازب سے کئی سندوں سے آئی ہے مگر اس رات کے سوا کسی بھی روایت میں ہم یہ نہیں پاتے کہ وضو کا ذکر کیا گیا ہو ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3574
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الوضوء 75 (247) ، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2710) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء 15 (3876) ( تحفة الأشراف : 1763) ، وسنن الدارمی/الاستئذان 51 (2725) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3575
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْبَرَّادِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : خَرَجْنَا فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ ، وَظُلْمَةٍ شَدِيدَةٍ ، نَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَنَا ، قَالَ : فَأَدْرَكْتُهُ ، فَقَالَ : قُلْ : فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا ، ثُمَّ قَالَ : قُلْ : فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا ، قَالَ : قُلْ ، فَقُلْتُ : مَا أَقُولُ ؟ قَالَ : قُلْ : " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ حِينَ تُمْسِي وَتُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَأَبُو سَعِيدٍ الْبَرَّادُ هُوَ أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ مَدَنِيٌّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن خبیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم ایک بارش والی سخت تاریک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے نکلے تاکہ آپ ہمیں نماز پڑھا دیں ، چنانچہ میں آپ کو پا گیا ، آپ نے فرمایا : ” کہو ( پڑھو ) “ ، تو میں نے کچھ نہ کہا : ” کہو “ آپ نے پھر فرمایا ، مگر میں نے کچھ نہ کہا ، ( کیونکہ معلوم نہیں تھا کیا کہوں ؟ ) آپ نے پھر فرمایا : ” کہو “ ، میں نے کہا : کیا کہوں ؟ آپ نے فرمایا : «قل هو الله أحد» اور «المعوذتين» ( «قل أعوذ برب الفلق» ، «قل أعوذ برب الناس» ) صبح و شام تین مرتبہ پڑھ لیا کرو ، یہ ( سورتیں ) تمہیں ہر شر سے بچائیں گی اور محفوظ رکھیں گی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ،
۲- ابوسعید براد : یہ اسید بن ابی اسید مدنی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3575
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، التعليق الرغيب (1 / 224) ، الكلم الطيب (19 / 7) ، صحيح الكلم الصفحة (19)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الأدب 110 (5082) ، سنن النسائی/الاستعاذة 1 (5430) ( تحفة الأشراف : 5250) (حسن)»