حدیث نمبر: 3566
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمْرٍو الْفَزَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي وِتْرِهِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ " . قَالَ : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ عَلِيٍّ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ( نماز ) وتر میں یہ دعا پڑھتے تھے : «اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث علی کی روایت سے حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، یعنی حماد ابن سلمہ کی روایت سے ۔
فائدہ ۱؎ : ” اے اللہ ! میں تیری ناراضگی سے بچ کر تیری رضا و خوشنودی کی پناہ میں آتا ہوں ، اے اللہ ! میں تیرے عذاب و سزا سے بچ کر تیرے عفو و درگزر کی پناہ چاہتا ہوں ، اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں تیرے غضب سے ، میں تیری ثناء ( تعریف ) کا احاطہٰ و شمار نہیں کر سکتا تو تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود اپنے آپ کی ثناء و تعریف کی ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث علی کی روایت سے حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، یعنی حماد ابن سلمہ کی روایت سے ۔
فائدہ ۱؎ : ” اے اللہ ! میں تیری ناراضگی سے بچ کر تیری رضا و خوشنودی کی پناہ میں آتا ہوں ، اے اللہ ! میں تیرے عذاب و سزا سے بچ کر تیرے عفو و درگزر کی پناہ چاہتا ہوں ، اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں تیرے غضب سے ، میں تیری ثناء ( تعریف ) کا احاطہٰ و شمار نہیں کر سکتا تو تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود اپنے آپ کی ثناء و تعریف کی ہے “ ۔