حدیث نمبر: 3564
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ : كُنْتُ شَاكِيًا فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي وَإِنْ كَانَ مُتَأَخِّرًا فَارْفَغنِي وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ قُلْتَ ؟ قَالَ : فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَا قَالَ ، فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ عَافِهِ أَوِ اشْفِهِ " شُعْبَةُ الشَّاكُّ فَمَا اشْتَكَيْتُ وَجَعِي بَعْدُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے شکایت ہوئی ( بیماری ہوئی ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، اس وقت میں دعا کر رہا تھا : «اللهم إن كان أجلي قد حضر فأرحني وإن كان متأخرا فارفغني وإن كان بلاء فصبرني» ” اے میرے رب ! اگر میری موت کا وقت آ پہنچا ہے تو مجھے ( موت دے کر ) راحت دے اور اور اگر میری موت بعد میں ہو تو مجھے اٹھا کر کھڑا کر دے ( یعنی صحت دیدے ) اور اگر یہ آزمائش ہے تو مجھے صبر دے “ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیسے کہا “ تو انہوں نے جو کہا تھا اسے دہرایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پیر سے ٹھوکا دیا پھر آپ نے فرمایا : «اللهم عافه أو اشفه» ” اے اللہ ! انہیں عافیت دے ، یا شفاء دے “ ، اس کے بعد مجھے اپنی تکلیف کی پھر کبھی شکایت نہیں ہوئی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 3565
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا قَالَ : " اللَّهُمَّ أَذْهِبْ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ ، وَاشْفِ فَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بیمار کی عیادت کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے : «اللهم أذهب البأس رب الناس واشف فأنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» ” اے اللہ ! اے لوگوں کے رب ! عذاب و تکلیف کو دور کر دے اور شفاء دیدے ، تو ہی شفاء دینے والا ہے ، تیری دی ہوئی شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں ہے ، ایسی شفاء دے کہ بیماری کچھ بھی باقی نہ رہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔