حدیث نمبر: 3551
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ طُلَيْقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو ، يَقُولُ : " رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى لِي ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ ، رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا ، لَكَ ذَكَّارًا ، لَكَ رَهَّابًا ، لَكَ مِطْوَاعًا ، لَكَ مُخْبِتًا ، إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا ، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَاهْدِ قَلْبِي وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ صَدْرِي " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگتے ہوئے یہ کہتے تھے : «رب أعني ولا تعن علي وانصرني ولا تنصر علي وامكر لي ولا تمكر علي واهدني ويسر الهدى لي وانصرني على من بغى علي رب اجعلني لك شكارا لك ذكارا لك رهابا لك مطواعا لك مخبتا إليك أواها منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي وأجب دعوتي وثبت حجتي وسدد لساني واهد قلبي واسلل سخيمة صدري» ” اے میرے رب ! میری مدد کر ، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر ، اے اللہ ! تو میری تائید و نصرت فرما اور میرے خلاف کسی کی تائید و نصرت نہ فرما ، اور میرے لیے تدبیر فرما اور میرے خلاف کسی کے لیے تدبیر نہ فرما ، اور اے اللہ ! تو مجھے ہدایت بخش اور ہدایت کو میرے لیے آسان فرما ، اور اے اللہ ! میری مدد فرما اس شخص کے مقابل میں جو میرے خلاف بغاوت و سرکشی کرے ، اے میرے رب ! تو مجھے اپنا بہت زیادہ شکر گزار بندہ بنا لے ، اپنا بہت زیادہ یاد و ذکر کرنے والا بنا لے ، اپنے سے بہت ڈرنے والا بنا دے ، اپنی بہت زیادہ اطاعت کرنے والا بنا دے ، اور اپنے سامنے عاجزی و فروتنی کرنے والا بنا دے ، اور اپنے سے درد و اندوہ بیان کرنے اور اپنی طرف رجوع کرنے والا بنا دے ۔ اے میرے رب ! میری توبہ قبول فرما اور میرے گناہ دھو دے ، اور میری دعا قبول فرما ، اور میری حجت ( میری دلیل ) کو ثابت و ٹھوس بنا دے ، اور میری زبان کو ٹھیک بات کہنے والی بنا دے ، میرے دل کو ہدایت فرما ، اور میرے سینے سے کھوٹ کینہ حسد نکال دے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 3551M
قَالَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , بِهَذَا الإِسْنَادِ ، نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمود بن غیلان کہتے ہیں کہ` ہم سے محمد بن بشر عبدی نے یہ حدیث سفیان کے واسطہ سے اسی طرح بیان کی ۔
حدیث نمبر: 3552
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ دَعَا عَلَى مَنْ ظَلَمَهُ فَقَدِ انْتَصَرَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي حَمْزَةَ ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي أَبِي حَمْزَةَ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ، وَهُوَ مَيْمُونٌ الْأَعْوَرُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اپنے اوپر ظلم کرنے والے کے خلاف بد دعا کی تو اس نے اس سے بدلہ لے لیا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- ہم اسے حمزہ کی روایت سے جانتے ہیں اور حمزہ کے بارے میں بعض اہل علم نے ان کے حافظہ کے تعلق سے کلام کیا ہے ، اور یہ میمون الاعور ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- ہم اسے حمزہ کی روایت سے جانتے ہیں اور حمزہ کے بارے میں بعض اہل علم نے ان کے حافظہ کے تعلق سے کلام کیا ہے ، اور یہ میمون الاعور ہیں ۔
حدیث نمبر: 3552M
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حمید بن عبدالرحمٰن نے ابولاحوص کے واسطہ سے` ابوحمزہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ہے ۔