کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3547
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ بَرِّدْ قَلْبِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ ، اللَّهُمَّ نَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن ابی اوفی کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے : «اللهم برد قلبي بالثلج والبرد والماء البارد اللهم نق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس» ” اے اللہ ! تو میرے دل کو ٹھنڈا کر دے برف اور اولے سے اور ٹھنڈے پانی سے اور میرے دل کو خطاؤں سے پاک و صاف کر دے جیسا کہ تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک و صاف کیا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3547
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 5175) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3548
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْقُرَشِيِّ الْمُلَيْكِيِّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ فُتِحَ لَهُ مِنْكُمْ بَابُ الدُّعَاءِ فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ ، وَمَا سُئِلَ اللَّهُ شَيْئًا يَعْنِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يُسْأَلَ الْعَافِيَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جس کسی کے لیے دعا کا دروازہ کھولا گیا تو اس کے لیے ( گویا ) رحمت کے دروازے کھول دیئے گئے ، اور اللہ سے مانگی جانے والی چیزوں میں سے جسے وہ دے اس سے زیادہ کوئی چیز پسند نہیں کہ اس سے عافیت مانگی جائے “ ،
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3548
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: (حديث: " من فتح له منكم باب ... ") ضعيف، (حديث: " إن الدعاء ينفع مما.. ") حسن (حديث: " إن الدعاء ينفع مما ... ") ، المشكاة (2239) ، التعليق الرغيب (2 / 272) ، (حديث: " من فتح له منكم باب ... ") ، المشكاة (2239) ، التعليق الرغيب (2 / 272) // ضعيف الجامع الصغير (5720) // , شیخ زبیر علی زئی: (3548) ضعيف / تقدم : 3515
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم 3515 (ضعیف)»
حدیث نمبر: 3548M
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ فَعَلَيْكُمْ عِبَادَ اللَّهِ بِالدُّعَاءِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْقُرَشِيِّ وَهُوَ الْمَكِّيُّ الْمُلَيْكِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ،
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دعا نازل شدہ مصیبت ، اور جو ابھی نہیں نازل ہوئی ہے اس سے بچنے کا فائدہ دیتی ہے ، تو اے اللہ کے بندو ! تم اللہ سے برابر دعا کرتے رہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن ابوبکر قرشی کی روایت سے جانتے ہیں ، یہ ملیکی ہیں اور یہ حدیث میں ضعیف مانتے جاتے ہیں ، انہیں بعض اہل علم نے حافظہ کے اعتبار سے ضعیف ٹھہرایا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3548M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: (حديث: " من فتح له منكم باب ... ") ضعيف، (حديث: " إن الدعاء ينفع مما.. ") حسن (حديث: " إن الدعاء ينفع مما ... ") ، المشكاة (2239) ، التعليق الرغيب (2 / 272) ، (حديث: " من فتح له منكم باب ... ") ، المشكاة (2239) ، التعليق الرغيب (2 / 272) // ضعيف الجامع الصغير (5720) //
تخریج حدیث «(حسن) (صحیح الترغیب)»
حدیث نمبر: 3549
وَقَدْ رَوَى إِسْرَائِيلُ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا سُئِلَ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الْعَافِيَةِ " . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ الْكُوفِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، بِهَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یہ حدیث اسرائیل نے بھی` عبدالرحمٰن بن ابوبکر سے روایت کی ہے اور عبدالرحمٰن نے موسیٰ بن عقبہ سے ، موسیٰ نے نافع سے ، اور نافع نے ابن عمر رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ، آپ نے فرمایا : ” اللہ سے جو چیزیں بھی مانگی جاتی ہیں ان میں اللہ کو عافیت سے زیادہ محبوب کوئی چیز بھی نہیں ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3549
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: (حديث: " من فتح له منكم باب ... ") ضعيف، (حديث: " إن الدعاء ينفع مما.. ") حسن (حديث: " إن الدعاء ينفع مما ... ") ، المشكاة (2239) ، التعليق الرغيب (2 / 272) ، (حديث: " من فتح له منكم باب ... ") ، المشكاة (2239) ، التعليق الرغيب (2 / 272) // ضعيف الجامع الصغير (5720) // , شیخ زبیر علی زئی: (3549الف) إسناده موضوع, محمد القرشي ابن سعيد الشامي المصلوب:كذاب وضاع، زنديق، راجع تهذيب الكمال (303/16۔305) و تقريب التهذيب (5907) وحديث أبى أمامة حسن والحمدلله
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (ضعیف) (تلخیص المستدرک 1/498)»
حدیث نمبر: 3549M
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بِنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ بِلَالٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ دَأَبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ ، وَإِنَّ قِيَامَ اللَّيْلِ قُرْبَةٌ إِلَى اللَّهِ وَمَنْهَاةٌ عَنِ الْإِثْمِ ، وَتَكْفِيرٌ لِلسَّيِّئَاتِ وَمَطْرَدَةٌ لِلدَّاءِ عَنِ الْجَسَدِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ بِلَالٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَلَا يَصِحُّ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ ، قَالَ : سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل ، يَقُولُ : مُحَمَّدٌ الْقُرَشِيُّ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الشَّامِيُّ وَهُوَ ابْنُ أَبِي قَيْسٍ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ وَقَدْ تُرِكَ حَدِيثُهُ ،
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بلال رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیام اللیل یعنی تہجد کا اہتمام کیا کرو ، کیونکہ تم سے پہلے کے صالحین کا یہی طریقہ ہے ، اور رات کا قیام یعنی تہجد اللہ سے قریب و نزدیک ہونے کا ، گناہوں سے دور ہونے کا اور برائیوں کے مٹنے اور بیماریوں کو جسم سے دور بھگانے کا ایک ذریعہ ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- اور ہم اسے بلال رضی الله عنہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور یہ اپنی سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے ،
۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا : محمد قرشی یہ محمد بن سعید شامی ہیں اور یہ ابوقیس کے بیٹے ہیں اور یہ ( ابوقیس ) محمد بن حسان ہیں ، ان ( محمد القرشی ) کی روایت کی ہوئی حدیث نہیں لی جاتی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3549M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: (حديث أبي أمامة) حسن، (حديث بلال) ضعيف (حديث أبي أمامة) ، الإرواء (452) ، التعليق الرغيب (2 / 216) ، المشكاة (1227) ، (حديث بلال) ، الإرواء (452) ، التعليق الرغيب (2 / 216) ، المشكاة (1227) // ضعيف الجامع الصغير (3789) //
تخریج حدیث «(ضعیف) (الإرواء: 452وضعیف الترغیب)»
حدیث نمبر: 3549M
وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ دَأَبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ ، وَهُوَ قُرْبَةٌ إِلَى رَبِّكُمْ ، وَمَكْفَرَةٌ لِلسَّيِّئَاتِ وَمَنْهَاةٌ لِلْإِثْمِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ بِلَالٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یہ حدیث معاویہ بن صالح نے بھی` ربیعہ بن یزید سے ، ربیعہ نے ابوادریس خولانی سے ، اور ابوادریس خولانی نے ابوامامہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، آپ نے فرمایا : ” قیام اللیل ( تہجد کی نماز ) کو اپنے لیے لازم کر لو ، کیونکہ تم سے پہلے کے نیکوں کاروں کا یہی طریقہ ہے اور یہ تمہارے لیے اللہ سے نزدیک ہونے کا ذریعہ ہے یہ تمہارے گناہوں کا کفارہ اور برائیوں سے بچ رہنے کا ایک آلہ ہے ،
۴- یہ حدیث زیادہ صحیح ہے ابوادریس کی اس حدیث سے جسے انہوں نے بلال رضی الله عنہ سے روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3549M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: (حديث أبي أمامة) حسن، (حديث بلال) ضعيف (حديث أبي أمامة) ، الإرواء (452) ، التعليق الرغيب (2 / 216) ، المشكاة (1227) ، (حديث بلال) ، الإرواء (452) ، التعليق الرغيب (2 / 216) ، المشكاة (1227) // ضعيف الجامع الصغير (3789) //
تخریج حدیث «( تحفة الأشراف : 2036) (حسن صحیح) (الإروائ: 452، وصحیح الترغیب)»
حدیث نمبر: 3550
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْمَارُ أُمَّتِي مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى السَّبْعِينَ ، وَأَقَلُّهُمْ مَنْ يَجُوزُ ذَلِكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہماری امت کی عمریں ساٹھ اور ستر ( سال ) کے درمیان ہیں اور تھوڑے ہی لوگ ایسے ہوں گے جو اس حد کو پار کریں گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے یعنی محمد بن عمرو کی روایت سے جسے وہ ابی سلمہ سے اور ابوسلمہ ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ،
۲- ہم ( ابوسلمہ کی ) اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں ،
۳- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے آئی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: دیکھئیے: کتاب الزہد، «باب ما جاء في فناء أعماء ہذہ الأمۃ» (رقم ۲۳۳۱) وہاں یہ حدیث بطریق: «أبی صالح، عن أبی ہریرۃ» آئی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3550
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن وقد مضى بنحوه برقم (2447)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الزہد 27 (4236) ، وانظر حدیث رقم 2331 ( تحفة الأشراف : 15037) (حسن)»