حدیث نمبر: 3531
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولَ اللَّهِ : عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي ، قَالَ : " قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، وَهُوَ حَدِيثُ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، وَأَبُو الْخَيْرِ اسْمُهُ مَرْثَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : آپ مجھے کوئی ایسی دعا بتا دیجئیے جسے میں اپنی نماز میں مانگا کروں ۱؎ ، آپ نے فرمایا : ” کہو : «اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم» ” اے اللہ ! میں نے اپنے آپ پر بڑا ظلم کیا ہے ، جب کہ گناہوں کو تیرے سوا کوئی اور بخش نہیں سکتا ، اس لیے تو مجھے اپنی عنایت خاص سے بخش دے ، اور مجھ پر رحم فرما ، تو ہی بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، اور یہ لیث بن سعد کی روایت ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، اور یہ لیث بن سعد کی روایت ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ” نماز میں “ سے مراد ہے آخری رکعت میں سلام سے پہلے۔
حدیث نمبر: 3532
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، قَالَ : جَاءَ الْعَبَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَأَنَّهُ سَمِعَ شَيْئًا ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ : " مَنْ أَنَا ؟ " فَقَالُوا : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْكَ السَّلَامُ ، قَالَ : " أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ فِرْقَةً ، ثُمَّ جَعَلَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ فِرْقَةً ، ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ قَبِيلَةً ، ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا ، وَخَيْرِهِمْ نَسَبًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالمطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں کہ` عباس رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو ان انہوں نے کوئی بات سنی ( جس کی انہوں نے آپ کو خبر دی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھ گئے ، اور پوچھا : ” میں کون ہوں ؟ “ لوگوں نے کہا : آپ اللہ کے رسول ! آپ پر اللہ کی سلامتی نازل ہو ، آپ نے فرمایا : ” میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں ، اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو مجھے سب سے بہتر گروہ میں پیدا کیا ، پھر اس گروہ میں بھی دو گروہ بنا دیئے اور مجھے ان دونوں گروہوں میں سے بہتر گروہ میں رکھا ، پھر ان میں مختلف قبیلے بنا دیئے ، تو مجھے سب سے بہتر قبیلے میں رکھا ، پھر انہیں گھروں میں بانٹ دیا تو مجھے اچھے نسب والے بہترین خاندان اور گھر میں پیدا کیا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث کا اس باب بلکہ کتاب (الدعوات) سے بظاہر کوئی تعلق نہیں آ رہا ہے اور یہ حدیث تحفۃ الاحوذی والے نسخے میں بھی نہیں ہیں، نیز اس سے پہلے والی دو حدیثیں بھی نہیں ہیں۔