حدیث نمبر: 3524
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ الرُّحَيْلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَخِي زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَرَبَهُ أَمْرٌ قَالَ : يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ یہ دعا پڑھتے : «يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث» ” اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے ! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں “ ۔
حدیث نمبر: 3524M
وَبِإِسْنَادِهِ ، قَالَ : وَبِإِسْنَادِهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلِظُّوا بِيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَنَسٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسی سند کے ساتھ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : «يا ذا الجلال والإكرام» ( اے بڑائی و بزرگی والے ) کو لازم پکڑو “ ۔
حدیث نمبر: 3525
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا الْمُؤَمِّلُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلِظُّوا بِيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ ، وَإِنَّمَا يُرْوَى هَذَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهَذَا أَصَحُّ وَمُؤَمَّلٌ غَلِطَ فِيهِ ، فَقَالَ : عَنْ حَمَادٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ وَلَا يُتَابَعُ فِيهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «يا ذا الجلال والإكرام» کو لازم پکڑو ( یعنی : اپنی دعاؤں میں برابر پڑھتے رہا کرو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ، محفوظ نہیں ہے ،
۲- یہ حدیث حماد بن سلمہ نے حمید سے ، انہوں نے حسن بصری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے ، اور یہ زیادہ صحیح ہے ۔ اور مومل سے اس میں غلطی ہوئی ہے ، چنانچہ انہوں نے «عن حميد عن أنس» دیا ، جبکہ اس میں ان کا کوئی متابع نہیں ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ، محفوظ نہیں ہے ،
۲- یہ حدیث حماد بن سلمہ نے حمید سے ، انہوں نے حسن بصری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے ، اور یہ زیادہ صحیح ہے ۔ اور مومل سے اس میں غلطی ہوئی ہے ، چنانچہ انہوں نے «عن حميد عن أنس» دیا ، جبکہ اس میں ان کا کوئی متابع نہیں ہے ۔