حدیث نمبر: 3498
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَنْزِلُ رَبُّنَا كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ ، فَيَقُولُ : مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ، وَمَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ، وَمَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرُّ اسْمُهُ سَلْمَانُ ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، وَرِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہمارا رب ہر رات آسمان دنیا پر آخری تہائی رات میں اترتا ہے اور کہتا ہے : ” کون ہے جو مجھے پکارے کہ میں اس کی دعا قبول کر لوں ؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اسے عطا کر دوں ؟ اور کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے کہ میں اسے بخش دوں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے
۲- اور ابوعبداللہ الاغر کا نام سلمان ہے ،
۳- اس باب میں علی ، عبداللہ بن مسعود ، ابوسعید ، جبیر بن مطعم ، رفاعہ جہنی ، ابودرداء اور عثمان بن ابوالعاص رضی الله عنہم سے بھی روایتیں ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے
۲- اور ابوعبداللہ الاغر کا نام سلمان ہے ،
۳- اس باب میں علی ، عبداللہ بن مسعود ، ابوسعید ، جبیر بن مطعم ، رفاعہ جہنی ، ابودرداء اور عثمان بن ابوالعاص رضی الله عنہم سے بھی روایتیں ہیں ۔
حدیث نمبر: 3499
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الثَّقَفِيُّ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ ؟ قَالَ : " جَوْفَ اللَّيْلِ الْآخِرِ ، وَدُبُرَ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، وَابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ الدُّعَاءُ فِيهِ أَفْضَلُ أَوْ أَرْجَى أَوْ نَحْوَ هَذَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول ! کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” آدھی رات کے آخر کی دعا ( یعنی تہائی رات میں مانگی ہوئی دعا ) اور فرض نمازوں کے اخیر میں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- ابوذر اور ابن عمر رضی الله عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ” رات کے آخری حصہ میں دعا سب سے بہتر ہے ، یا اس کے قبول ہونے کی امیدیں زیادہ ہیں یا اسی جیسی کوئی اور بات آپ نے فرمائی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- ابوذر اور ابن عمر رضی الله عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ” رات کے آخری حصہ میں دعا سب سے بہتر ہے ، یا اس کے قبول ہونے کی امیدیں زیادہ ہیں یا اسی جیسی کوئی اور بات آپ نے فرمائی “ ۔
وضاحت:
۱؎: «دبر الصلوات» کے معنی نماز کے بعد یعنی سلام کے بعد بھی ہو سکتے ہیں اور ” نماز کے اخیر میں سلام سے پہلے “ بھی ہو سکتے ہیں، اور یہ دوسرا معنی زیادہ قرین صواب ہے، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ کو اسی وقت دعا زیادہ قبول ہونے کے بارے میں بتایا تھا، نیز بندہ اللہ سے پہلے زیادہ قریب ہوتا ہے کیونکہ وہ نماز میں ہوتا ہے بنسبت سلام کے بعد کے۔
حدیث نمبر: 3500
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عُمَرَ الْهِلَالِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمِعْتُ دُعَاءَكَ اللَّيْلَةَ فَكَانَ الَّذِي وَصَلَ إِلَيَّ مِنْهُ أَنَّكَ تَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، وَوَسِّعْ لِي فِي رِزْقِي ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي ، قَالَ : فَهَلْ تَرَاهُنَّ تَرَكْنَ شَيْئًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَأَبُو السَّلِيلِ اسْمُهُ ضُرَيْبُ بْنُ نُفَيْرٍ وَيُقَالُ : ابْنُ نُقَيْرِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے آج رات آپ کی دعا سنی ، میں نے آپ کی جو دعا سنی وہ یہ تھی : «اللهم اغفر لي ذنبي ووسع لي في داري وبارك لي فيما رزقتني» ” اے اللہ ! میرے گناہ بخش دے اور میرے گھر میں کشادگی دے ، اور میرے رزق میں برکت دے “ ، آپ نے فرمایا : ” کیا ان دعائیہ کلمات نے کچھ چھوڑا ؟ ( یعنی ان میں دین دنیا کی سبھی بھلائیاں آ گئی ہیں ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث غریب ہے ۔
حدیث نمبر: 3501
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْحِمْصِيُّ، عَنْ بَقِيَّةَ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ زِيَادٍ، قَال : سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ اللَّهُمَّ : أَصْبَحْنَا نُشْهِدُكَ وَنُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَمَلَائِكَتَكَ وَجَمِيعَ خَلْقِكَ بِأَنَّكَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ اللَّهُ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا أَصَابَ فِي يَوْمِهِ ذَلِكَ ، وَإِنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا أَصَابَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ مِنْ ذَنْبٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص صبح میں یہ کلمات کہے گا : «اللهم أصبحنا نشهدك ونشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك بأنك الله لا إله إلا أنت الله وحدك لا شريك لك وأن محمدا عبدك ورسولك» ” اے اللہ ! ہم نے صبح کی اور ہم تجھے گواہ بناتے ہیں اور تیرا عرش اٹھائے رہنے والوں ، تیرے فرشتوں کو تیری ساری مخلوقات کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے ، تو اکیلا اللہ ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں “ ، تو اس دن اس سے جتنے بھی گناہ ہوں گے انہیں اللہ بخش دے گا اور اگر وہ یہ دعا شام کے وقت پڑھے گا تو اس رات اس سے جتنے بھی گناہ سرزد ہوں گے اللہ انہیں بخش دے گا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث غریب ہے ۔