حدیث نمبر: 3493
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : كُنْتُ نَائِمَةً إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَقَدْتُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَسْتُهُ ، فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَهُوَ يَقُولُ : " أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَائِشَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں سوئی ہوئی تھی ، رات میں نے آپ کو اپنی جگہ نہ پا کر آپ کو ادھر ادھر تلاش کیا ، ٹٹولا ، میرا ہاتھ آپ کے قدموں پر پڑا ، اس وقت آپ سجدے میں تھے ، اور یہ دعا پڑھ رہے تھے : «أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ” اے اللہ ! میں تیری رضا و خوشنودی کے ذریعہ تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں ، اور تیرے عفو درگزر کے سہارے تیری سزا و عذاب سے پناہ مانگتا ہوں ، میں تیری ثناء ، تیری تعریف کی گنتی اور اس کا احصاء و احاطہٰ نہیں کر سکتا ، تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود آپ اپنی ذات کی تعریف کی ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ حدیث کئی سندوں سے عائشہ رضی الله عنہا سے آئی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ حدیث کئی سندوں سے عائشہ رضی الله عنہا سے آئی ہے ۔
حدیث نمبر: 3493M
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، نَحْوَهُ ، وَزَادَ فِيهِ : " وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´لیث نے بیان کیا` اور لیث نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ہے اور اس میں اتنا اضافہ کیا ہے : «وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك» ” میں تیری پناہ چاہتا ہوں تیری ناراضگی سے اور تیری تعریف کا حق ادا نہیں کر سکتا “ ، ( جیسی کہ تیری تعریف ہونی چاہیئے ) ۔