کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب:۔۔۔
حدیث نمبر: 3489
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَال : سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَدْعُو : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے : «اللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى» ” اے اللہ ! میں تجھ سے ہدایت کا طالب ہوں ، تقویٰ کا طلب گار ہوں ، پاکدامنی کا خواہشمند ہوں ، مالداری اور بے نیازی چاہتا ہوں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3489
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3832)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 18 (2721) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء 2 (3832) ( تحفة الأشراف : 9507) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3490
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ الدِّمَشْقِيِّ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَائِذُ اللَّهِ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ مِنْ دُعَاءِ دَاوُدَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهْلِي وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ " ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ دَاوُدَ يُحَدِّثُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ أَعْبَدَ الْبَشَرِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” داود علیہ السلام کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ تھی : «اللهم إني أسألك حبك وحب من يحبك والعمل الذي يبلغني حبك اللهم اجعل حبك أحب إلي من نفسي وأهلي ومن الماء البارد» ” اے اللہ ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں ، اور میں اس شخص کی بھی تجھ سے محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت کرتا ہے ، اور ایسا عمل چاہتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے ، اے اللہ ! تو اپنی محبت کو مجھے میری جان اور میرے گھر والوں سے زیادہ محبوب بنا دے ، اے اللہ ! اپنی محبت کو ٹھنڈے پانی کی محبت سے بھی زیادہ کر دے “ ، ( راوی ) کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب داود علیہ السلام کا ذکر کرتے تو ان کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے : وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3490
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف - إلا قوله في داود: " كان أعبد البشر " فهو عند مسلم - ابن عمر -، الصحيحة (707) ، المشكاة (2496 / التحقيق الثاني)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 10942) (ضعیف) (سند میں ’’ عبد اللہ بن ربیعہ ‘‘ مجہول ہے، اور بقول امام احمد: اس کی حدیثیں موضوع ہوتی ہیں، مگر ’’ کان داود أعبد البشر ‘‘ کا ٹکڑا ابن عمر رضی الله عنہما سے مسلم میں موجود ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم 707)»