حدیث نمبر: 3486
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى بَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَعْقِدُ التَّسْبِيحَ بِيَدِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، وَرَوَى شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ بِطُولِهِ ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ يُسَيْرَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، اعْقِدْنَ بِالْأَنَامِلِ فَإِنَّهُنَّ مَسْئُولَاتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح کا شمار اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، یعنی اعمش کی روایت سے جسے وہ عطاء بن سائب سے روایت کرتے ہیں ،
۲- شعبہ اور ثوری نے یہ پوری حدیث عطاء بن سائب سے روایت کی ہے ،
۲- اس باب میں یسیرہ بنت یاسر رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے کہتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عورتوں کی جماعت ! تم تسبیحات کا شمار انگلیوں کے پوروں سے کر لیا کرو ، کیونکہ ان سے پوچھا جائے گا اور انہیں گویائی عطا کی جائے گی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، یعنی اعمش کی روایت سے جسے وہ عطاء بن سائب سے روایت کرتے ہیں ،
۲- شعبہ اور ثوری نے یہ پوری حدیث عطاء بن سائب سے روایت کی ہے ،
۲- اس باب میں یسیرہ بنت یاسر رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے کہتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عورتوں کی جماعت ! تم تسبیحات کا شمار انگلیوں کے پوروں سے کر لیا کرو ، کیونکہ ان سے پوچھا جائے گا اور انہیں گویائی عطا کی جائے گی “ ۔
حدیث نمبر: 3487
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا قَدْ جُهِدَ حَتَّى صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ ، فَقَالَ لَهُ : " أَمَا كُنْتَ تَدْعُو ؟ أَمَا كُنْتَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ ؟ " قَالَ : كُنْتُ أَقُولُ : اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّكَ لَا تُطِيقُهُ أَوْ لَا تَسْتَطِيعُهُ ، أَفَلَا كُنْتَ تَقُولُ : اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کی جو بیماری سے سخت لاغر اور سوکھ کر چڑیا کے بچے کی طرح ہو گئے تھے عیادت کی ، آپ نے ان سے فرمایا : ” کیا تم اپنے رب سے اپنی صحت و عافیت کی دعا نہیں کرتے تھے ؟ “ انہوں نے کہا : میں دعا کرتا تھا کہ اے اللہ ! جو سزا تو مجھے آخرت میں دینے والا تھا وہ سزا مجھے تو دنیا ہی میں پہلے ہی دیدے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سبحان اللہ ! پاک ہے اللہ کی ذات ، تو اس سزا کو کاٹنے اور جھیلنے کی طاقت و استطاعت نہیں رکھتا ، تم یہ کیوں نہیں کہا کرتے تھے : «اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» ” اے اللہ ! تو ہمیں دنیا میں بھی نیکی ، اچھائی و بھلائی دے اور آخرت میں بھی حسنہ ، نیکی بھلائی و اچھائی دے ، اور بچا لے تو ہمیں جہنم کے عذاب سے “ ( البقرہ : ۲۰۱ ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ،
۲- یہ حدیث انس بن مالک کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دیگر کئی اور سندوں سے بھی آئی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ،
۲- یہ حدیث انس بن مالک کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دیگر کئی اور سندوں سے بھی آئی ہے ۔
حدیث نمبر: 3488
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ الْحَسَنِ فِي قَوْلِهِ : رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً سورة البقرة آية 201 ، قَالَ : فِي الدُّنْيَا الْعِلْمُ وَالْعِبَادَةُ ، وَفِي الْآخِرَةِ الْجَنَّةُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اللہ تعالیٰ کی اس آیت : «ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة» کے بارے میں حسن سے مروی ہے ، دنیا میں «حسنہ» سے مراد علم اور عبادت ہے ، اور آخرت میں «حسنہ» سے مراد جنت ہے ۔
حدیث نمبر: 3488M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثْ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ نَحْوَهُ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے` حمید نے ثابت سے ، اور ثابت نے انس سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے ۔