حدیث نمبر: 3469
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ ، إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص صبح و شام میں سو ( سو ) مرتبہ : «سبحان الله وبحمده» کہے ، قیامت کے دن کوئی شخص اس سے اچھا عمل لے کر نہیں آئے گا ، سوائے اس شخص کے جس نے وہی کہا ہو جو اس نے کہا ہے یا اس سے بھی زیادہ اس نے یہ دعا پڑھی ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
حدیث نمبر: 3470
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ لِأَصْحَابِهِ : " قُولُوا : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ ، مَنْ قَالَهَا مَرَّةً كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا ، وَمَنْ قَالَهَا عَشْرًا كُتِبَتْ لَهُ مِائَةً ، وَمَنْ قَالَهَا مِائَةً كُتِبَتْ لَهُ أَلْفًا ، وَمَنْ زَادَ زَادَهُ اللَّهُ ، وَمَنِ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ غَفَرَ لَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا : «سبحان الله وبحمده» کہا کرو ، جس نے یہ کلمہ ایک بار کہا اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی ، اور جس نے دس بار کہا اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی ، اور جس نے سو بار کہا اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی ، اور جو زیادہ کہے گا اللہ اس کی نیکیوں میں بھی اضافہ فرما دے گا ، اور جو اللہ سے بخشش چاہے گا اللہ اس کو بخش دے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔