کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: تسبیح، تکبیر، تہلیل اور تحمید کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3460
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " " مَا عَلَى الْأَرْضِ أَحَدٌ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِلَّا كُفِّرَتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي بَلْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ، وَأَبُو بَلْجٍ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَيُقَالُ أَيْضًا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زمین پر جو کوئی بھی بندہ : «لا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» کہے گا ” اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سوا کسی کام کے کرنے کی کسی میں نہ کوئی طاقت ہے اور نہ ہی قوت “ ، اس کے ( چھوٹے چھوٹے ) گناہ بخش دیئے جائیں گے ، اگرچہ سمندر کی جھاگ کی طرح ( بہت زیادہ ) ہوں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- شعبہ نے یہ حدیث اسی سند کے ساتھ اسی طرح ابوبلج سے روایت کی ہے ، اور اسے مرفوع نہیں کیا ، اور ابوبلج کا نام یحییٰ بن ابی سلیم ہے اور انہیں یحییٰ بن سلیم بھی کہا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3460
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، التعليق الرغيب (2 / 249)
تخریج حدیث «سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 49 (122) ( تحفة الأشراف : 8902) (حسن)»
حدیث نمبر: 3460M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ . وَحَاتِمٌ وَ يُكَنَّى أبَا يُونُسْ القُشَيرِي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے` حاتم بن ابی صغیرہ سے ، حاتم نے ابوبلج سے ، ابوبلج نے عمرو بن میمون سے ، عمرو بن میمون نے عبداللہ بن عمرو کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ، اور حاتم کی کنیت ابو یونس قشیری ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3460M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، التعليق الرغيب (2 / 249)
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (حسن)»
حدیث نمبر: 3460M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے` شعبہ نے ابوبلج سے اسی طرح روایت کی اور انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3460M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، التعليق الرغيب (2 / 249)
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (حسن)»
حدیث نمبر: 3461
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَلَمَّا قَفَلْنَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَكَبَّرَ النَّاسُ تَكْبِيرَةً وَرَفَعُوا بِهَا أَصْوَاتَهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَصَمَّ وَلَا غَائِبٍ هُوَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رُءُوسِ رِحَالِكُمْ ، ثُمَّ قَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَنْزًا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلٍّ ، وَأَبُو نَعَامَةَ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ عِيسَى ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ : هُوَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رُءُوسِ رِحَالِكُمْ إِنَّمَا يَعْنِي عِلْمَهُ وَقُدْرَتَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھے ، جب ہم واپس پلٹے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور بلند آواز سے کہی ، آپ نے فرمایا : ” تمہارا رب بہرا نہیں ہے اور نہ ہی وہ غائب ہے ، وہ تمہارے درمیان اور تمہاری سواریوں کے درمیان موجود ہے ، پھر آپ نے فرمایا : ” عبداللہ بن قیس ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتا دوں ؟ وہ : «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے ، یعنی حرکت و قوت اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر نہیں ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- ابوعثمان النہدی کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے ،
۳- اور ابونعامہ کا نام عمرو بن عیسیٰ ہے ،
۴- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «بينكم وبين رءوس رحالكم» سے مراد یہ ہے کہ اس کا علم اور قدرت ہر جگہ ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3461
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3824)
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم 3374 (صحیح)»