کتب حدیث › سنن ترمذي › ابواب › باب: جب کھانا کھا چکے تو کیا پڑھے؟
❮
❯
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رُفِعَتِ الْمَائِدَةُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ يَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبُّنَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے جب دستر خوان اٹھا لیا جاتا تو آپ کہتے : «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه غير مودع ولا مستغنى عنه ربنا» ” اللہ ہی کے لیے ہیں ساری تعریفیں ، بہت زیادہ تعریفیں ، پاکیزہ روزی ہے ، بابرکت روزی ہے ، یہ اللہ کی جانب سے ہماری آخری غذا نہ ہو اور اے ہمارے رب ہم اس سے کبھی بے نیاز نہ ہوں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3456
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3284)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الأطعمة 54 (5458) ، سنن ابی داود/ الأطعمة 53 (3849) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 16 (3284) ( تحفة الأشراف : 4856) ، و مسند احمد (5/349) ، وسنن الدارمی/الأطعمة 3 (2066) (صحیح)»
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَأَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ رِيَاحِ بْنِ عَبِيدَةَ، قَالَ حَفْصٌ : عَنْ ابْنِ أَخِي أَبِي سَعِيدٍ، وَقَالَ أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھا پی چکتے تو کہتے : «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين» ” سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3457
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (3283) , شیخ زبیر علی زئی: (3457) إسناده ضعيف / جه 3283, مولي لأبي سعيد : مجهول وللحديث شواهد ضعيفة
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الأطعمة 16 (3283) ( تحفة الأشراف : 4442) (ضعیف) (سند میں ’’ حجاج بن ارطاة ‘‘ متکلم فیہ راوی ہیں، اور ’’ ابن اخی سعید ‘‘ مجہول ہیں)»
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ طَعَامًا فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَأَبُو مَرْحُومٍ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مَيْمُونٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کھانا کھایا پھر کھانے سے فارغ ہو کر کہا : «الحمد لله الذي أطعمني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه» ” تمام تعریفیں ہیں اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں یہ کھانا کھلایا اور اسے ہمیں عطا کیا ، میری طرف سے محنت مشقت اور جدوجہد اور قوت و طاقت کے استعمال کے بغیر ، تو اس کے اگلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- اور ابو مرحوم کا نام عبدالرحیم بن میمون ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3458
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (3285)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ اللباس 1 (4023) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 16 (3285) ( تحفة الأشراف : 11297) ، وسنن الدارمی/الاستئذان 55 (2732) (حسن) (سنن ابی داود میں: وما تأخر آخر میں آیا ہے، جو صحیح نہیں ہے)»