حدیث نمبر: 3452
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِ أَحَدِهِمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ غَضَبُهُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " ، وفي الباب ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` دو آدمیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپس میں گالی گلوچ کیا ان میں سے ایک کے چہرے سے غصہ عیاں ہو رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر وہ اس کلمے کو کہہ لے تو اس کا غصہ کافور ہو جائے ، وہ کلمہ یہ ہے : «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» ” میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں راندے ہوئے شیطان سے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس باب میں سلیمان بن سرد سے بھی روایت ہے ، اور یہ حدیث مرسل ( منقطع ) ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس باب میں سلیمان بن سرد سے بھی روایت ہے ، اور یہ حدیث مرسل ( منقطع ) ہے ۔
حدیث نمبر: 3452M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، نَحْوَهُ . قَالَ : وَهَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، مَاتَ مُعَاذٌ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَقُتِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى غُلَامٌ ابْنُ سِتِّ سِنِينَ ، هَكَذَا رَوَى شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَرَآهُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى يكنى أبا عيسى ، وأبو ليلى اسمه يسار ، وروي عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : أَدْرَكْتُ عِشْرِينَ وَمِائَةً مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ` اسی طرح کی حدیث روایت کی ،
۳- عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے معاذ بن جبل سے نہیں سنا ہے ، معاذ بن جبل کا انتقال عمر بن خطاب کی خلافت میں ہوا ہے ، اور عمر بن خطاب رضی الله عنہ جب شہید ہوئے ہیں اس وقت عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ چھ برس کے تھے
۴- اسی طرح شعبہ نے بھی حکم کے واسطہ سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت کی ہے ،
۵- عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت کی ہے ، اور ان کو دیکھا ہے اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی کنیت ابوعیسیٰ ہے اور ابی لیلیٰ کا نام یسار ہے ، اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سو بیس صحابہ کو پایا ہے اور دیکھا ہے ۔
۳- عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے معاذ بن جبل سے نہیں سنا ہے ، معاذ بن جبل کا انتقال عمر بن خطاب کی خلافت میں ہوا ہے ، اور عمر بن خطاب رضی الله عنہ جب شہید ہوئے ہیں اس وقت عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ چھ برس کے تھے
۴- اسی طرح شعبہ نے بھی حکم کے واسطہ سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت کی ہے ،
۵- عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت کی ہے ، اور ان کو دیکھا ہے اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی کنیت ابوعیسیٰ ہے اور ابی لیلیٰ کا نام یسار ہے ، اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سو بیس صحابہ کو پایا ہے اور دیکھا ہے ۔