کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 3445
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُسَافِرَ فَأَوْصِنِي ، قَالَ : " عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ " ، فَلَمَّا أَنْ وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ : اللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں سفر پر نکلنے کا ارادہ کر رہا ہوں تو آپ مجھے کچھ وصیت فرما دیجئیے ، آپ نے فرمایا : ” میں تجھے اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں اور نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں کہیں بھی اونچائی و بلندی پر چڑھو اللہ کی تکبیر پڑھو ، ( اللہ اکبر کہتے رہو ) پھر جب آدمی پلٹ کر سفر پر نکلا تو آپ نے فرمایا : «اللهم اطو له الأرض وهون عليه السفر» ” اے اللہ ! اس کے لیے مسافت کی دوری کو لپیٹ کر مختصر کر دے اور اس کے لیے سفر کو آسان بنا دے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3445
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (2771)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الجھاد 8 (2771) (حسن)»