کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: سفر سے لوٹے تو کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3440
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَال : سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ قَالَ : آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَرَوَى الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْبَرَاءِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ الْبَرَاءِ ، وَرِوَايَةُ شُعْبَةَ أَصَحُّ ، وَفِي الْبَابِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَنَسٍ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس آتے تو یہ دعا پڑھتے : «آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون» ” ( ہم سلامتی کے ساتھ سفر سے ) واپس آنے والے ہیں ، ہم ( اپنے رب کے حضور ) توبہ کرنے والے ہیں ، ہم اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں ، اور ہم اپنے رب کے شکر گزار ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- ثوری نے یہ حدیث ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے براء سے روایت کی ہے اور انہوں نے اس حدیث کی سند میں ربیع ابن براء کا ذکر نہیں کیا ہے ، اور شعبہ کی روایت زیادہ صحیح و درست ہے ،
۳- اس باب میں ابن عمر ، انس اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3440
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح صحيح أبي داود تحت الحديث (2339)
تخریج حدیث «سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 171 (550) ( تحفة الأشراف : 1755) ، و مسند احمد (4/298) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3441
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَنَظَرَ إِلَى جُدْرَاتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس لوٹتے اور مدینہ کی دیواریں دکھائی دینے لگتیں تو آپ اپنی اونٹنی ( سواری ) کو ( اپنے وطن ) مدینہ کی محبت میں تیز دوڑاتے ۱؎ اور اگر اپنی اونٹنی کے علاوہ کسی اور سواری پر ہوتے تو اسے بھی تیز بھگاتے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ محبت مدینہ کے ساتھ خاص بھی ہو سکتی ہے، نیز یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہر انسان کو اپنے وطن (گھر) سے محبت ہوتی ہے، تو اس محبت کی وجہ سے کوئی بھی انسان اپنے گھر جلد پہنچنے کی چاہت میں اسی طرح جلدی کرے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر پہنچنے کے لیے کرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3441
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/العمرة 17 (1802) ، وفضائل المدینة بعد 10 (1886) ( تحفة الأشراف : 574) (صحیح)»