حدیث نمبر: 3435
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَدْعُو عِنْدَ الْكَرْبِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْحَكِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمُ " . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ ، عَنْ عَلِيٍّ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے : «لا إله إلا الله الحليم الحكيم لا إله إلا الله رب العرش العظيم لا إله إلا الله رب السموات والأرض ورب العرش الكريم» ” کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ بلند و بردبار کے ، اور کوئی معبود برحق نہیں سوائے اس اللہ کے جو عرش عظیم کا رب ( مالک ) ہے اور کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اس اللہ کے جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے اور قابل عزت عرش کا رب ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- ہم سے بیان کیا محمد بن بشار نے ، وہ کہتے ہیں : ہم سے بیان کیا ابن ابوعدی نے ، اور انہوں نے ہشام سے ، ہشام نے قتادہ سے ، قتادہ نے ابوالعالیہ سے ، اور ابوالعالیہ نے ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ روایت کے مثل روایت کی ،
۳- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- ہم سے بیان کیا محمد بن بشار نے ، وہ کہتے ہیں : ہم سے بیان کیا ابن ابوعدی نے ، اور انہوں نے ہشام سے ، ہشام نے قتادہ سے ، قتادہ نے ابوالعالیہ سے ، اور ابوالعالیہ نے ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ روایت کے مثل روایت کی ،
۳- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
حدیث نمبر: 3436
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيُّ الْمَدَنِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا أَهَمَّهُ الْأَمْرُ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ ، وَإِذَا اجْتَهَدَ فِي الدُّعَاءِ ، قَالَ : يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مشکل معاملے سے دوچار ہوتے تو اپنا سر آسمان کی طرف اٹھاتے پھر کہتے : «سبحان الله العظيم» ” اللہ پاک و برتر ہے “ اور جب جی جان لگا کر دعا کرتے تو کہتے : «يا حي يا قيوم» ” اے زندہ ذات ! اے کائنات کا نظام چلانے والے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث غریب ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث غریب ۔