کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 3427
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ ، قَالَ : بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نَزِلَّ أَوْ نَضِلَّ أَوْ نَظْلِمَ أَوْ نُظْلَمَ أَوْ نَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيْنَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے تھے : «بسم الله توكلت على الله اللهم إنا نعوذ بك من أن نزل أو نضل أو نظلم أو نظلم أو نجهل أو يجهل علينا» ۱؎ ” شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے ، بھروسہ کرتا ہوں اللہ پر ، اے اللہ تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ حق و صواب سے کہیں پھر نہ جاؤں ، یا راہ حق سے بھٹکا نہ دیا جاؤں ، یا میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے ، یا میں کسی کے ساتھ جاہلانہ برتاؤ کروں یا کوئی میرے ساتھ جاہلانہ انداز سے پیش آئے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3427
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3884) , شیخ زبیر علی زئی: (3427) إسناده ضعيف / د 5094، ن5488، جه 3884
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الأدب 112 (5094) ، سنن النسائی/الاستعاذة 30 (5488) ، 65 (5541) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء 18 (3884) ( تحفة الأشراف : 18168) ، و مسند احمد (6/306، 318، 323) (صحیح)»