کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: رات میں نیند سے جاگے تو کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3414
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَ : حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : رَبِّ اغْفِرْ لِي أَوْ قَالَ ثُمَّ دَعَا اسْتُجِيبَ لَهُ ، فَإِنْ عَزَمَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى قُبِلَتْ صَلَاتُهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی نیند سے جاگے پھر کہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير وسبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» ۱؎ ، پھر کہے «رب اغفر لي» ” اے میرے رب ہمیں بخش دے “ ، یا آپ نے کہا : پھر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی ، پھر اگر اس نے ہمت کی اور وضو کیا پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اللہ واحد کے سوا اور کوئی معبود برحق نہیں ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہت اسی کی ہے اور اسی کے لیے سب تعریفیں ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور گناہ سے بچنے کی قوت اور نیکی کرنے کی طاقت نہیں ہے مگر اللہ کی توفیق سے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3414
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3878)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/التہجد 21 (1154) ، والأدب 108 (5060) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء 16 (3878) ( تحفة الأشراف : 5074) ، وسنن الدارمی/الاستئذان 53 (2729) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3415
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : كَانَ عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ يُصَلِّي كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ سَجْدَةٍ ، وَيُسَبِّحُ مِائَةَ أَلْفِ تَسْبِيحَة .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مسلمہ بن عمرو کہتے ہیں کہ` عمیر بن ہانی ۱؎ ہر دن ہزار رکعتیں نمازیں پڑھتے تھے ، اور سو ہزار ( یعنی ایک لاکھ ) تسبیحات پڑھتے تھے ، یعنی سبحان اللہ کہتے تھے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ دمشق کے رہنے والے ایک تابعی ہیں، ستۃ کے رواۃ میں سے ہیں، اور ثقہ ہیں، ۱۲۷ھ میں شہید کر دیئے گئے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3415
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: (3415) إسناده ضعيف, مسلمة بن عمرو: مجهول (تق:6663)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 19181) (ضعیف الإسناد) (سند میں ’’ مسلمہ بن عمرو شامی ‘‘ مجہول راوی ہیں)»