کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: صبح و شام پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 3392
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، قَال : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ الثَّقَفِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مُرْنِي بِشَيْءٍ أَقُولُهُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ ، قَالَ :قُلْ : اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ ، قَالَ : قُلْهُ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ابوبکر رضی الله عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجئیے جسے میں صبح و شام میں پڑھ لیا کروں ، آپ نے فرمایا : ” کہہ لیا کرو : «اللهم عالم الغيب والشهادة فاطر السموات والأرض رب كل شيء ومليكه أشهد أن لا إله إلا أنت أعوذ بك من شر نفسي ومن شر الشيطان وشركه» ” اے اللہ ! غائب و حاضر ، موجود اور غیر موجود کے جاننے والے ، آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ، ہر چیز کے مالک ! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے ، میں اپنے نفس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، میں شیطان کے شر اور اس کی دعوت شرک سے تیری پناہ چاہتا ہوں “ ، آپ نے فرمایا : ” یہ دعا صبح و شام اور جب اپنی خواب گاہ میں سونے چلو پڑھ لیا کرو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3392
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الكلم الطيب (22)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الأدب 110 (5076) ( تحفة الأشراف : 14274) و مسند احمد (2/297) ، وسنن الدارمی/الاستئذان 54 (2731) (صحیح)»