کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: سورۃ والضحی سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3345
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدَبٍ الْبَجَلِيِّ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فَدَمِيَتْ أُصْبُعُهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ " ، قَالَ : وَأَبْطَأَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : قَدْ وُدِّعَ مُحَمَّدٌ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى سورة الضحى آية 3 " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ ، وَالثَّوْرِيُّ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جندب بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھا ، آپ کی انگلی سے ( کسی سبب سے ) خون نکل آیا ، اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو صرف ایک انگلی ہے جس سے خون نکل آیا ہے اور یہ سب کچھ جو تجھے پیش آیا ہے اللہ کی راہ میں پیش آیا ہے “ ، راوی کہتے ہیں : آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں دیر ہوئی تو مشرکین نے کہا : ( پروپگینڈہ کیا ) کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) چھوڑ دئیے گئے ، تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ والضحیٰ کی ) آیت «ما ودعك ربك وما قلى» ” نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ بیزار ہوا ہے “ ( الضحیٰ : ۳ ) ، نازل فرمائی ۔ ۱؎
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اسے شعبہ اور ثوری نے بھی اسود بن قیس سے روایت کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: وحی میں یہ تاخیر کسی وجہ سے ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3345
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الجھاد 9 (2802) ، والأدب 90 (6146) ، صحیح مسلم/الجھاد 39 (1796) ( تحفة الأشراف : 3250) ، و مسند احمد (4/312، 313) (صحیح)»