حدیث نمبر: 3119
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِنَاعٍ عَلَيْهِ رُطَبٌ ، فَقَالَ : " مَثَلُ كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ { 24 } تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا سورة إبراهيم آية 24 ـ 25 ، قَالَ : هِيَ النَّخْلَةُ وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ سورة إبراهيم آية 26 قَالَ : هِيَ الْحَنْظَلُ " ، قَالَ : فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ أَبَا الْعَالِيَةِ ، فَقَالَ : صَدَقَ وَأَحْسَنَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹوکری لائی گئی جس میں تروتازہ پکی ہوئی کھجوریں تھیں ، آپ نے فرمایا : «كلمة طيبة كشجرة طيبة أصلها ثابت وفرعها في السماء تؤتي أكلها كل حين بإذن ربها» ۱؎ آپ نے فرمایا : یہ کھجور کا درخت ہے ، اور آیت «ومثل كلمة خبيثة كشجرة خبيثة اجتثت من فوق الأرض ما لها من قرار» ۲؎ میں برے درخت سے مراد اندرائن ہے ۔ شعیب بن حبحاب ( راوی حدیث ) کہتے ہیں : میں نے اس حدیث کا ذکر ابوالعالیہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے سچ اور صحیح کہا ۔
وضاحت:
۱؎: ” کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ (کھجور کے درخت) کی ہے جس کی جڑ ثابت و (مضبوط) ہے اور اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں وہ (درخت) اپنے رب کے حکم سے برابر (لگاتار) پھل دیتا رہتا ہے “ (ابراہیم: ۲۴)۔
۲؎: ” برے کلمے (بری بات) کی مثال برے درخت جیسی ہے جو زمین کی اوپری سطح سے اکھیڑ دیا جا سکتا ہے جسے کوئی جماؤ (ثبات ومضبوطی) حاصل نہیں ہوتی “ (ابراہیم: ۲۶)۔
۲؎: ” برے کلمے (بری بات) کی مثال برے درخت جیسی ہے جو زمین کی اوپری سطح سے اکھیڑ دیا جا سکتا ہے جسے کوئی جماؤ (ثبات ومضبوطی) حاصل نہیں ہوتی “ (ابراہیم: ۲۶)۔
حدیث نمبر: 3119M
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ أَبِي الْعَالِيَةِ ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِثْلَ هَذَا مَوْقُوفًا وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ غَيْرَ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ وَلَمْ يَرْفَعُوهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں : ہم سے ابوبکر بن شعیب بن حبحاب نے بیان کیا ، اور ابوبکر نے اپنے باپ شعیب سے اور شعیب نے انس بن مالک سے اسی طرح اسی حدیث کی ہم معنی حدیث روایت کی ، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ، نہ ہی انہوں نے ابوالعالیہ کا قول نقل کیا ہے ، یہ حدیث حماد بن سلمہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ،
۲- کئی ایک نے ایسی ہی حدیث موقوفاً روایت کی ہے ، اور ہم حماد بن سلمہ کے سوا کسی کو بھی نہیں جانتے جنہوں نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہو ، اس حدیث کو معمر اور حماد بن زید اور کئی اور لوگوں نے بھی روایت کیا ہے ، لیکن ان لوگوں نے اسے مرفوع روایت نہیں کیا ہے ۔
۱- ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں : ہم سے ابوبکر بن شعیب بن حبحاب نے بیان کیا ، اور ابوبکر نے اپنے باپ شعیب سے اور شعیب نے انس بن مالک سے اسی طرح اسی حدیث کی ہم معنی حدیث روایت کی ، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ، نہ ہی انہوں نے ابوالعالیہ کا قول نقل کیا ہے ، یہ حدیث حماد بن سلمہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ،
۲- کئی ایک نے ایسی ہی حدیث موقوفاً روایت کی ہے ، اور ہم حماد بن سلمہ کے سوا کسی کو بھی نہیں جانتے جنہوں نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہو ، اس حدیث کو معمر اور حماد بن زید اور کئی اور لوگوں نے بھی روایت کیا ہے ، لیکن ان لوگوں نے اسے مرفوع روایت نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3119M
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ نَحْوَ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہم سے احمد بن عبدۃ ضبی نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ` ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا اور حماد نے شعیب بن حبحاب کے واسطہ سے انس سے قتیبہ کی حدیث کی طرح روایت کی ہے ، لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3120
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، قَال : سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 قَالَ : " فِي الْقَبْرِ إِذَا قِيلَ لَهُ مَنْ رَبُّكَ وَمَا دِينُكَ وَمَنْ نَبِيُّكَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ” اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں ، قول ثابت ( محکم بات ) کے ذریعہ دنیا و آخرت دونوں میں ثابت قدم رکھتا ہے “ ( ابراہیم : ۲۷ ) ، کی تفسیر میں فرمایا : ” ثابت رکھنے سے مراد قبر میں اس وقت ثابت رکھنا ہے جب قبر میں پوچھا جائے گا : «من ربك ؟ » تمہارا رب ، معبود کون ہے ؟ «وما دينك ؟ » تمہارا دین کیا ہے ؟ «ومن نبيك ؟ » تمہارا نبی کون ہے ؟ “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎ مومن بندہ کہے گا: میرا رب (معبود) اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
حدیث نمبر: 3121
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ : " تَلَتْ عَائِشَةُ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ سورة إبراهيم آية 48 ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ ؟ قَالَ : عَلَى الصِّرَاطِ " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ عَائِشَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مسروق کہتے ہیں کہ` ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے آیت «يوم تبدل الأرض غير الأرض» ” جس دن زمین و آسمان بدل کر دوسری طرح کے کر دیئے جائیں گے “ ( ابراہیم : ۴۸ ) ، پڑھ کر سوال کیا : اللہ کے رسول ! اس وقت لوگ کہاں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : ” «على الصراط» پل صراط پر “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے ۔