حدیث نمبر: 2615
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، المعنى واحد ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ " , قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ فِي حَدِيثِهِ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ , قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَبِي بَكْرَةَ , وَأَبِي أُمَامَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے وہ اپنے بھائی کو حیاء ( شرم اور پاکدامنی ) اختیار کرنے پر نصیحت کر رہا تھا ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بطور تاکید ) فرمایا : ” حیاء ایمان کا ایک حصہ ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- احمد بن منیع نے اپنی روایت میں کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حیاء کے بارے میں اپنے بھائی کو پھٹکارتے ہوئے سنا ،
۳- اس باب میں ابوہریرہ ، ابوبکرہ اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- احمد بن منیع نے اپنی روایت میں کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حیاء کے بارے میں اپنے بھائی کو پھٹکارتے ہوئے سنا ،
۳- اس باب میں ابوہریرہ ، ابوبکرہ اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے حیاء کی فضیلت و اہمیت ثابت ہے، ایک باحیاء انسان اپنی زندگی میں حیاء سے پورا پورا فائدہ اٹھاتا ہے، کیونکہ حیاء انسان کو گناہوں سے روکتی اور نیکیوں پر آمادہ کرتی ہے۔