کتب حدیث › سنن ترمذي › ابواب › باب: حورعین کے ترانہ کا بیان۔
❮
❯
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَمُجْتَمَعًا لِلْحُورِ الْعِينِ يُرَفِّعْنَ بِأَصْوَاتٍ لَمْ يَسْمَعِ الْخَلَائِقُ مِثْلَهَا " , قَالَ : يَقُلْنَ : نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَبِيدُ ، وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْأَسُ ، وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَا نَسْخَطُ ، طُوبَى لِمَنْ كَانَ لَنَا وَكُنَّا لَهُ " , وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَأَنَسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثِ عَلِيٍّ حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنت میں حورعین کے لیے ایک محفل ہو گی اس میں وہ اپنا نغمہ ایسا بلند کرے گا کہ مخلوق نے کبھی اس جیسی آواز نہیں سنی ہو گی “ ، آپ نے فرمایا : ” وہ کہیں گی : ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی فنا نہیں ہوں گی ، ہم ناز و نعمت والی ہیں کبھی محتاج نہیں ہوں گی ، ہم خوش رہنے والی ہیں کبھی ناراض نہیں ہوں گی ، اس کے لیے خوشخبری اور مبارک ہو اس کے لیے جو ہمارے لیے ہے اور ہم اس کے لیے ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے ،
۲- اس باب میں ابوہریرہ ، ابو سعید خدری اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2564
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الضعيفة (1982) // ضعيف الجامع الصغير (1898) // , شیخ زبیر علی زئی: (2564) إسناده ضعيف / تقدم: 2550
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 10298) (ضعیف) (سند میں عبد الرحمن بن اسحاق بن الحارث واسطی ضعیف راوی ہیں)»
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : فَهُمْ فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ سورة الروم آية 15 ، قَالَ السَّمَّاعُ : وَمَعْنَى السَّمَّاعِ : مثل ما ورد في الحديث " أَنَّ الْحُورَ الْعِينَ يُرَفِّعْنَ بِأَصْوَاتِهِنَّ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ یحییٰ بن ابی کثیر آیت کریمہ : «فهم في روضة يحبرون» ” وہ جنت میں خوش کر دیئے جائیں گے “ کے بارے میں کہتے ہیں : اس سے مراد سماع ہے اور سماع کا مفہوم وہی ہے جو حدیث میں آیا ہے کہ حورعین اپنے نغمے کی آواز بلند کریں گی ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2565
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : لم یذکرہ المزي) (صحیح)»