حدیث نمبر: 2543
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَلْ فِي الْجَنَّةِ مِنْ خَيْلٍ ؟ قَالَ : " إِنِ اللَّهُ أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ فَلَا تَشَاءُ أَنْ تُحْمَلَ فِيهَا عَلَى فَرَسٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ يَطِيرُ بِكَ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْتَ إِلا فَعَلْتَ " , قَالَ : وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَلْ فِي الْجَنَّةِ مِنْ إِبِلٍ ؟ قَالَ : فَلَمْ يَقُلْ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِصَاحِبِهِ ، قَالَ : إِنْ يُدْخِلْكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ يَكُنْ لَكَ فِيهَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ` ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا جنت میں گھوڑے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” اگر اللہ نے تم کو جنت میں داخل کیا تو تمہاری خواہش کے مطابق تمہیں سرخ یاقوت کے گھوڑے پر سوار کیا جائے گا ، تم جہاں چاہو گے وہ تمہیں جنت میں لے کر اڑے گا “ ، آپ سے ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا جنت میں اونٹ ہیں ؟ بریدہ کہتے ہیں : آپ نے اس کو پہلے آدمی کی طرح جواب نہیں دیا ۔ آپ نے فرمایا : ” اگر اللہ نے تمہیں جنت میں داخل کیا تو اس میں تمہارے لیے ہر وہ چیز موجود ہو گی جس کی تم چاہت کرو گے اور جس سے تمہاری آنکھیں لطف اٹھائیں گی “ ۔
حدیث نمبر: 2543M
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْمَسْعُودِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے` عبدالرحمٰن بن سابط کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی اسی معنی کی حدیث مروی ہے ، اور یہ مسعودی کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ، ( کیونکہ اس کا مرفوع متصل ہونا صحیح نہیں ہے )
حدیث نمبر: 2544
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ الْأَحْمَسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ وَاصِلٍ هُوَ ابْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي سَوْرَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ الْخَيْلَ أَفِي الْجَنَّةِ خَيْلٌ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ أُدْخِلْتَ الْجَنَّةَ أُتِيتَ بِفَرَسٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ لَهُ جَنَاحَانِ فَحُمِلْتَ عَلَيْهِ ثُمَّ طَارَ بِكَ حَيْثُ شِئْتَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ ، وَلَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أَيُّوبَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَأَبُو سَوْرَةَ هُوَ ابْنُ أَخِي أَبِي أَيُّوبَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ جِدًّا ، قَالَ : وَسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يَقُولُ : أَبُو سَوْرَةَ هَذَا مُنْكَرُ الْحَدِيثِ يَرْوِي مَنَاكِيرَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوایوب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی نے آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے گھوڑا پسند ہے ، کیا جنت میں گھوڑے ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم جنت میں داخل کئے گئے تو تمہیں یاقوت کا گھوڑا دیا جائے گا ، اس کے دو پر ہوں گے تم اس پر سوار کئے جاؤ گے پھر جہاں چاہو گے وہ تمہیں لے کر اڑے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے ۔ ہم اسے ابوایوب کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ،
۲- ابوسورۃ ، ابوایوب کے بھتیجے ہیں ۔ یہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں ۔ انہیں یحییٰ بن معین نے بہت زیادہ ضعیف قرار دیا ہے ،
۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا : ابوسورۃ منکر حدیث ہیں ، یہ ابوایوب رضی الله عنہ سے ایسی کئی منکر احادیث روایت کرتے ہیں ، جن کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے ۔ ہم اسے ابوایوب کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ،
۲- ابوسورۃ ، ابوایوب کے بھتیجے ہیں ۔ یہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں ۔ انہیں یحییٰ بن معین نے بہت زیادہ ضعیف قرار دیا ہے ،
۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا : ابوسورۃ منکر حدیث ہیں ، یہ ابوایوب رضی الله عنہ سے ایسی کئی منکر احادیث روایت کرتے ہیں ، جن کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔