کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: جنت کے پھلوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2541
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " وَذُكِرَ لَهُ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى ، قَالَ : يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّ الْفَنَنِ مِنْهَا مِائَةَ سَنَةٍ أَوْ يَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا مِائَةُ رَاكِبٍ شَكَّ يَحْيَى فِيهَا فِرَاشُ الذَّهَبِ كَأَنَّ ثَمَرَهَا الْقِلَالُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسماء بنت ابوبکر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ، اس وقت آپ کے سامنے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر آیا تھا ۔ آپ نے فرمایا : ” اس کی شاخوں کے سائے میں سوار سو سال تک چلے گا ، یا اس کے سائے میں سو سوار رہیں گے ، ( یہ شک حدیث کے راوی یحییٰ کی طرف سے ہے ۔ ) اس پر سونے کے بسترے ہیں اور اس کے پھل مٹکے جیسے ( بڑے ) ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2541
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (5640 / التحقيق الثاني) ، التعليق الرغيب (4 / 256)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 15716) (ضعیف) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، اور یونس بن بکیر روایت میں غلطیاں کر جایا کرتے تھے)»