کتب حدیث › سنن ترمذي › ابواب › باب: پل صراط کا بیان۔
❮
❯
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شِعَارُ الْمُؤْمِنِ عَلَى الصِّرَاطِ رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پل صراط پر مومن کا شعار یہ ہو گا : «رب سلم سلم» میرے رب ! مجھے سلامت رکھ ، مجھے سلامت رکھ “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث مغیرہ بن شعبہ کی روایت سے غریب ہے ، اسے ہم صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق ( واسطی ہی ) کی روایت سے جانتے ہیں ،
۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2432
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الضعيفة (1973) // ضعيف الجامع الصغير (3398) // , شیخ زبیر علی زئی: (2432) إسناده ضعيف, عبدالرحمن بن إسحاق : ضعيف (تقدم: 741) وحديث البخاري (7437) ومسلم (195) يغني عنه
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 11533) (ضعیف) (سند میں نعمان بن سعد لین الحدیث ہیں اور عبد الرحمن بن اسحاق واسطی ضعیف)»
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ الْأَنْصَارِيُّ أَبُو الْخَطَّابِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنْ يَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ , فَقَالَ : " أَنَا فَاعِلٌ " قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ ، قَالَ : " اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ " ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ ؟ قَالَ : " فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْمِيزَانِ " ، قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ الْمِيزَانِ ؟ قَالَ : " فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْحَوْضِ فَإِنِّي لَا أُخْطِئُ هَذِهِ الثَّلَاثَ الْمَوَاطِنَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ قیامت کے دن میرے لیے شفاعت فرمائیں ، آپ نے فرمایا : ” ضرور کروں گا “ ۔ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں آپ کو کہاں تلاش کروں گا ؟ آپ نے فرمایا : ” سب سے پہلے مجھے پل صراط پر ڈھونڈنا “ ، میں نے عرض کیا : اگر پل صراط پر آپ سے ملاقات نہ ہو سکے ، تو فرمایا : ” تو اس کے بعد میزان کے پاس ڈھونڈنا “ ، میں نے کہا : اگر میزان کے پاس بھی ملاقات نہ ہو سکے تو ؟ فرمایا : ” اس کے بعد حوض کوثر پر ڈھونڈنا ، اس لیے کہ میں ان تین جگہوں میں سے کسی جگہ پر ضرور ملوں گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2433
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (5595) ، التعليق الرغيب (4 / 211)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 1624) (صحیح)»