حدیث نمبر: 2304
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَسُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ صَالِحٌ : حَدَّثَنَا ، وَقَالَ سُوَيْدٌ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ان کی قدر نہیں کرتے ہیں ایک تندرستی اور دوسری فراغت ہیں بلکہ یوں ہی انہیں ضائع کر دیتے ہیں جب کہ تندرستی کو بیماری سے پہلے اور فرصت کو مشغولیت سے پہلے غنیمت سمجھنا چاہیئے۔
حدیث نمبر: 2304M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَقَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَرَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ فَرَفَعُوهُ ، وَأَوْقَفَهُ بَعْضُهُمْ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس کو کئی اور لوگوں نے عبداللہ بن سعید بن ابی ہند سے مرفوعاً ہی روایت کیا ہے ، جب کہ کچھ لوگوں نے عبداللہ بن سعید ہی کے واسطے سے ( ابن عباس سے ) موقوفاً روایت کیا ہے ،
۳- اس باب میں انس بن مالک رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس کو کئی اور لوگوں نے عبداللہ بن سعید بن ابی ہند سے مرفوعاً ہی روایت کیا ہے ، جب کہ کچھ لوگوں نے عبداللہ بن سعید ہی کے واسطے سے ( ابن عباس سے ) موقوفاً روایت کیا ہے ،
۳- اس باب میں انس بن مالک رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔