حدیث نمبر: 2151
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ رِضَاهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ ، وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ ، تَرْكُهُ اسْتِخَارَةَ اللَّهِ ، وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ ، سَخَطُهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ، وَيُقَالُ لَهُ أَيْضًا : حَمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، وَهُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمَدَنِيُّ وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے فیصلے پر راضی ہونا ابن آدم کی سعادت ( نیک بختی ) ہے ، اللہ سے خیر طلب نہ کرنا ابن آدم کی شقاوت ( بدبختی ) ہے اور اللہ کے فیصلے پر ناراض ہونا ابن آدم کی شقاوت ( بدبختی ) ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف محمد بن ابی حمید کی روایت سے جانتے ہیں ، انہیں حماد بن ابی حمید بھی کہا جاتا ہے ، ان کی کنیت ابوابراہیم ہے ، اور مدینہ کے رہنے والے ہیں ، یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف محمد بن ابی حمید کی روایت سے جانتے ہیں ، انہیں حماد بن ابی حمید بھی کہا جاتا ہے ، ان کی کنیت ابوابراہیم ہے ، اور مدینہ کے رہنے والے ہیں ، یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں ۔