حدیث نمبر: 2141
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، عَنْ شُفَيِّ بْنِ مَاتِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ كِتَابَانِ ، فَقَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا هَذَانِ الْكِتَابَانِ ؟ " فَقُلْنَا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلَّا أَنْ تُخْبِرَنَا ، فَقَالَ لِلَّذِي فِي يَدِهِ الْيُمْنَى : " هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاءُ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ ، ثُمَّ أُجْمِلَ عَلَى آخِرِهِمْ ، فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا " ، ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي فِي شِمَالِهِ : " هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ النَّارِ وَأَسْمَاءُ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ ، ثُمَّ أُجْمِلَ عَلَى آخِرِهِمْ فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا " ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ : فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ كَانَ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ ، فَقَالَ : " سَدِّدُوا وَقَارِبُوا فَإِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّةِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ ، وَإِنَّ صَاحِبَ النَّارِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ، وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ فَنَبَذَهُمَا ، ثُمَّ قَالَ : " فَرَغَ رَبُّكُمْ مِنَ الْعِبَادِ ، فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک بار ) ہماری طرف نکلے اس وقت آپ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں ۔ آپ نے پوچھا : ” تم لوگ جانتے ہو یہ دونوں کتابیں کیا ہیں ؟ “ ہم لوگوں نے کہا : نہیں ، سوائے اس کے کہ آپ ہمیں بتا دیں ۔ داہنے ہاتھ والی کتاب کے بارے میں آپ نے فرمایا : ” یہ رب العالمین کی کتاب ہے ، اس کے اندر جنتیوں ، ان کے آباء و اجداد اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں ، پھر آخر میں ان کا میزان ذکر کر دیا گیا ہے ۔ لہٰذا ان میں نہ تو کسی کا اضافہ ہو گا اور نہ ان میں سے کوئی کم ہو گا “ ، پھر آپ نے بائیں ہاتھ والی کتاب کے بارے میں فرمایا : ” یہ رب العالمین کی کتاب ہے ، اس کے اندر جہنمیوں ، ان کے آباء و اجداد اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں اور آخر میں ان کا میزان ذکر کر دیا گیا ہے ، اب ان میں نہ تو کسی کا اضافہ ہو گا اور نہ ان میں سے کوئی کم ہو گا ۔ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! پھر عمل کس لیے کریں جب کہ اس معاملہ سے فراغت ہو چکی ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” سیدھی راہ پر چلو اور میانہ روی اختیار کرو ، اس لیے کہ جنتی کا خاتمہ جنتی کے عمل پہ ہو گا ، اگرچہ اس سے پہلے وہ جو بھی عمل کرے اور جہنمی کا خاتمہ جہنمی کے عمل پہ ہو گا اگرچہ اس سے پہلے وہ جو بھی عمل کرے “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا ، پھر ان دونوں کتابوں کو پھینک دیا اور فرمایا : ” تمہارا رب بندوں سے فارغ ہو چکا ہے ، ایک فریق جنت میں جائے گا اور ایک فریق جہنم میں جائے گا “ ۔
حدیث نمبر: 2141M
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ نَحْوَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، وَأَبُو قَبِيلٍ اسْمُهُ حُيَيُّ بْنُ هَانِئٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ،
۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ،
۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔
حدیث نمبر: 2142
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ " ، فَقِيلَ : كَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ الْمَوْتِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے عمل کراتا ہے “ ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کیسے عمل کراتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” موت سے پہلے اسے عمل صالح کی توفیق دیتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔