کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: لوگوں کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔
حدیث نمبر: 2140
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، آمَنَّا بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ فَهَلْ تَخَافُ عَلَيْنَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِنَّ الْقُلُوبَ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ يُقَلِّبُهَا كَيْفَ يَشَاءُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَعَائِشَةَ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَدِيثُ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَنَسٍ أَصَحُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا پڑھتے تھے «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ” اے دلوں کے الٹنے پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ آپ پر اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لے آئے کیا آپ کو ہمارے سلسلے میں اندیشہ رہتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، لوگوں کے دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں جیسا چاہتا ہے انہیں الٹتا پلٹتا رہتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- کئی لوگوں نے اسی طرح «عن الأعمش عن أبي سفيان عن أنس» کی سند سے روایت کی ہے ۔ بعض لوگوں نے «عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ، لیکن ابوسفیان کی حدیث جو انس سے مروی ہے زیادہ صحیح ہے ،
۳- اس باب میں نواس بن سمعان ، ام سلمہ ، عبداللہ بن عمرو اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب القدر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2140
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3834) , شیخ زبیر علی زئی: (2140) إسناده ضعيف, الأعمش عنعن (تقدم: 169) وانظر ضعيف سنن ابن ماجه (3834) والحديث صحيح بالشواھد دون قوله : ”فھل تخاف علينا“
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الدعاء 2 (3834) ( تحفة الأشراف : 924) (صحیح)»