حدیث نمبر: 2123
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ، قَالَ : أَوْصَى إِلَيَّ أَخِي بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَقُلْتُ : إِنَّ أَخِي أَوْصَى إِلَيَّ بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ فَأَيْنَ تَرَى لِي وَضْعَهُ فِي الْفُقَرَاءِ أَوِ الْمَسَاكِينِ أَوِ الْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَمَّا أَنَا فَلَوْ كُنْتُ لَمْ أَعْدِلْ بِالْمُجَاهِدِينَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَثَلُ الَّذِي يَعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ ، كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوحبیبہ طائی کہتے ہیں کہ` میرے بھائی نے اپنے مال کے ایک حصہ کی میرے لیے وصیت کی ، میں نے ابو الدرداء رضی الله عنہ سے ملاقات کی اور کہا : میرے بھائی نے اپنے مال کے ایک حصہ کی میرے لیے وصیت کی ہے ، آپ کی کیا رائے ہے ؟ میں اسے کہاں خرچ کروں ، فقراء میں ، مسکینوں میں یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں میں ؟ انہوں نے کہا : میری بات یہ ہے کہ اگر تمہاری جگہ میں ہوتا تو مجاہدین کے برابر کسی کو نہ سمجھتا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جو شخص مرتے وقت غلام آزاد کرتا ہے اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو آسودہ ہونے کے بعد ہدیہ کرتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 2124
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ تَسْتَعِينُ عَائِشَةَ فِي كِتَابَتِهَا ، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ : ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ ، وَيَكُونَ لِي وَلَاؤُكِ فَعَلْتُ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا ، وَقَالُوا : إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ ، وَيَكُونَ لَنَا وَلَاؤُكِ فَلْتَفْعَلْ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَائِشَةَ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ : أَنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` بریرہ اپنے زر کتابت کے بارے میں ان سے تعاون مانگنے آئیں اور زر کتابت میں سے کچھ نہیں ادا کیا تھا ۔ ام المؤمنین عائشہ نے ان سے کہا : تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ اگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری زر کتابت ادا کر دوں اور تمہاری ولاء ( میراث ) کا حق مجھے حاصل ہو ، تو میں ادا کر دوں گی ۔ بریرہ نے اپنے گھر والوں سے اس کا ذکر کیا ، تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہا : اگر وہ چاہتی ہوں کہ تمہیں آزاد کر کے ثواب حاصل کریں اور تمہارا حق ولاء ( میراث ) ہمارے لیے ہو تو وہ تمہیں آزاد کر دیں ، ام المؤمنین عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اسے خریدو اور آزاد کر دو اس لیے کہ حق ولاء ( میراث ) اسی کو حاصل ہے جو آزاد کرے “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا : ” لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ، وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں موجود نہیں ؟ جو شخص کوئی ایسی شرط لگائے جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں موجود نہیں تو وہ اس کا مستحق نہیں ہو گا ، اگرچہ وہ سو بار شرط لگائے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
۲- عائشہ رضی الله عنہا سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے ۔
۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آزاد کرنے والے ہی کو حق ولاء ( میراث ) حاصل ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
۲- عائشہ رضی الله عنہا سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے ۔
۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آزاد کرنے والے ہی کو حق ولاء ( میراث ) حاصل ہے ۔