حدیث نمبر: 2109
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْقَاتِلُ لَا يَرِثُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَا يَصِحُّ وَلَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَإِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ قَدْ تَرَكَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ ، مِنْهُمْ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْقَاتِلَ لَا يَرِثُ كَانَ الْقَتْلُ عَمْدًا أَوْ خَطَأً وَقَالَ بَعْضُهُمْ : إِذَا كَانَ الْقَتْلُ خَطَأً فَإِنَّهُ يَرِثُ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قاتل ( مقتول کا ) وارث نہیں ہو گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث صحیح نہیں ہے ، یہ صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے ،
۲- اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ ( کی روایت ) کو بعض محدثین نے ترک کر دیا ہے ، احمد بن حنبل انہیں لوگوں میں سے ہیں ،
۳- اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے کہ قاتل وارث نہیں ہو گا ، خواہ قتل قتل عمد ہو یا قتل خطا ،
۴- بعض اہل علم کہتے ہیں : جب قتل قتل خطا ہو تو وہ وارث ہو گا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث صحیح نہیں ہے ، یہ صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے ،
۲- اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ ( کی روایت ) کو بعض محدثین نے ترک کر دیا ہے ، احمد بن حنبل انہیں لوگوں میں سے ہیں ،
۳- اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے کہ قاتل وارث نہیں ہو گا ، خواہ قتل قتل عمد ہو یا قتل خطا ،
۴- بعض اہل علم کہتے ہیں : جب قتل قتل خطا ہو تو وہ وارث ہو گا ۔