کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: لڑکیوں کی موجودگی میں لڑکوں کی میراث کا بیان۔
حدیث نمبر: 2096
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : " جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ فِي بَنِي سَلَمَةَ ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، كَيْفَ أَقْسِمُ مَالِي بَيْنَ وَلَدِي ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا ، فَنَزَلَتْ : يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ سورة النساء آية 11 الْآيَةَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ ، وغيره عَنْ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کی غرض سے تشریف لائے اس وقت میں بنی سلمہ کے محلے میں بیمار تھا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! میں اپنا مال اپنی اولاد ۱؎ کے درمیان کیسے تقسیم کروں ؟ آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا : پھر یہ آیت نازل ہوئی : «يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين» ” اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے “ ( النساء : ۱۱ ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- شعبہ ، سفیان بن عیینہ اور دوسرے لوگوں نے بھی یہ حدیث محمد بن منکدر کے واسطہ سے جابر رضی الله عنہ سے روایت کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اگلی روایت جو صحیحین کی ہے اس میں اولاد کی بجائے بہنوں کا تذکرہ ہے، اور صحیح واقعہ بھی یہی ہے کہ جابر رضی الله عنہ کی اس وقت تو اولاد تھی ہی نہیں، اس لیے یہ روایت صحیح ہونے کے باوجود شاذ کی قبیل سے ہوئی (دیکھئیے اگلی روایت)۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفرائض عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2096
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف و أعادہ في تفسیر النساء (3015) ( تحفة الأشراف : 3066) (صحیح)»