حدیث نمبر: 2093
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ ، فَسَأَلَهُمَا عَنِ الِابْنَةِ ، وَأُخْتٍ لأب ، وأم ، فقال : للابنة النصف ، وللأخت من الأب والأم ما بقي ، وقالا له : انطلق إلى عبد الله ، فاسأله فإنه سيتابعنا ، فأتى عبد الله فذكر ذلك له وأخبره بما وَابْنَةِ الِابْنِ قَالَا ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ ، وَلَكِنْ أَقْضِي فِيهِمَا كَمَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلِابْنَةِ النِّصْفُ ، وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ ، وَلِلْأُخْتِ مَا بَقِيَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو قَيْسٍ الْأَوْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَرْوَانَ الْكُوفِيُّ ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہزیل بن شرحبیل کہتے ہیں کہ` ابوموسیٰ اور سلمان بن ربیعہ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے ان سے بیٹی ، پوتی اور حقیقی بہن کی میراث کے بارے میں پوچھا ، ان دونوں نے جواب دیا : بیٹی کو آدھی میراث اور حقیقی بہن کو باقی حصہ ملے گا ، انہوں نے اس آدمی سے یہ بھی کہا کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو ، وہ بھی ہماری طرح جواب دیں گے ، وہ آدمی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے پاس آیا ، ان سے مسئلہ بیان کیا اور ابوموسیٰ اور سلمان بن ربیعہ نے جو کہا تھا اسے بھی بتایا ، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا : اگر میں بھی ویسا ہی جواب دوں تب تو میں گمراہ ہو گیا اور ہدایت یافتہ نہ رہا ، میں اس سلسلے میں اسی طرح فیصلہ کروں گا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا : بیٹی کو آدھا ملے گا ، پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا تاکہ ( بیٹیوں کا مکمل حصہ ) دو تہائی پورا ہو جائے اور باقی حصہ بہن کو ملے گا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- شعبہ نے بھی ابوقیس عبدالرحمٰن بن ثروان اودی کوفی سے یہ حدیث روایت کی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- شعبہ نے بھی ابوقیس عبدالرحمٰن بن ثروان اودی کوفی سے یہ حدیث روایت کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: کل ترکہ کے (۱۲) حصے فرض کریں گے جن میں سے: مرنے والے کی بیٹی کے لیے کل ترکہ کا آدھا =۶ حصے، پوتی کے لیے چھٹا حصہ =۲ حصے اور مرنے والے کی بہن کے لیے باقی ترکہ =۴ حصے۔