کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: چغل خور کا بیان۔
حدیث نمبر: 2026
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ عَلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ هَذَا يُبَلِّغُ الْأُمَرَاءَ الْحَدِيثَ عَنِ النَّاسِ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ :" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ " ، قَالَ سُفْيَانُ : وَالْقَتَّاتُ : النَّمَّامُ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ` حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کے پاس سے ایک آدمی گزرا ، ان سے کہا گیا کہ یہ شخص حکام کے پاس لوگوں کی باتیں پہنچاتا ہے ، تو حذیفہ رضی الله عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” چغل خور جنت میں نہیں داخل ہو گا “ ۱؎ ۔ سفیان کہتے ہیں : «قتات» ، «نمام» ” چغل خور “ کو کہتے ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: حاکموں اور حکومتی عہدہ داروں کے پاس اہل ایمان اور صالح لوگوں کی چغلی کرنے والوں، ان کی رپورٹیں بنا بنا کر پیش کرنے والوں اور جھوٹ سچ ملا کر اپنے مفادات حاصل کرنے والوں کو اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہیئے، دنیاوی مفادات چار دن کی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ اخروی حیات کا آخری کوئی سرا نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2026
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (1034) ، غاية المرام (433)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الأدب 50 (6056) ، صحیح مسلم/الإیمان 45 (150) ، سنن ابی داود/ الأدب 38 (4871) ( تحفة الأشراف : 3386) ، و مسند احمد (5/382، 389، 397، 403، 404) (صحیح)»