کتب حدیث › سنن ترمذي › ابواب › باب: بال بچوں پر خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
❮
❯
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَفَقَةُ الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ صَدَقَةٌ " ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابومسعود انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کا اپنے بال بچوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو ، عمرو بن امیہ ضمری اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1965
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (982)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الإیمان 42 (55) ، والمغازي 12 (4006) ، والنفقات 1 (5351) ، صحیح مسلم/الزکاة 14 (1002) ، سنن النسائی/الزکاة 60 (2546) ( تحفة الأشراف : 9996) ، و مسند احمد (4/120، 122) ، و (5/273) ، سنن الدارمی/الاستئذان 35 (2667) (صحیح)»
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَفْضَلُ الدِّينَارِ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى عِيَالِهِ ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : بَدَأَ بِالْعِيَالِ ، ثُمَّ قَالَ : " فَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالٍ لَهُ صِغَارٍ يُعِفُّهُمُ اللَّهُ بِهِ وَيُغْنِيهِمُ اللَّهُ بِهِ " قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے بہتر دینار وہ دینار ہے ، جسے آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے ، اور وہ دینار ہے جسے آدمی اپنے جہاد کی سواری پر خرچ کرتا ہے ، اور وہ دینار ہے جسے آدمی اپنے مجاہد ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے “ ، ابوقلابہ کہتے ہیں : آپ نے بال بچوں کے نفقہ ( اخراجات ) سے شروعات کی پھر فرمایا : ” اس آدمی سے بڑا اجر و ثواب والا کون ہے جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے ، جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ انہیں حرام چیزوں سے بچاتا ہے اور انہیں مالدار بناتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1966
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2760)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الزکاة 12 (994) ، سنن ابن ماجہ/الجھاد 4 (2760) ( تحفة الأشراف : 2101) ، و مسند احمد (5/277، 279، 284) (صحیح)»