حدیث نمبر: 1933
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِينَةَ ، آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، فَقَالَ لَهُ : هَلُمَّ أُقَاسِمُكَ مَالِي نِصْفَيْنِ ، وَلِيَ امْرَأَتَانِ ، فَأُطَلِّقُ إِحْدَاهُمَا فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَتَزَوَّجْهَا ، فَقَالَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ فَدَلُّوهُ عَلَى السُّوقِ فَمَا رَجَعَ يَوْمَئِذٍ إِلَّا وَمَعَهُ شَيْءٌ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ قَدِ اسْتَفْضَلَهُ ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ ، فَقَالَ : " مَهْيَمْ " ، قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : " فَمَا أَصْدَقْتَهَا ؟ " قَالَ : نَوَاةً ، قَالَ حُمَيْدٌ : أَوْ قَالَ : وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ؟ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : وَزْنُ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ وَزْنُ ثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ وَثُلُثٍ ، وَقَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ : وَزْنُ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ وَزْنُ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ ، سَمِعْتُ إِسْحَاق بْنَ مَنْصُورٍ يَذْكُرُ عَنْهُمَا هَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ ( ہجرت کر کے ) مدینہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ، سعد بن ربیع نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ سے کہا : آؤ تمہارے لیے اپنا آدھا مال بانٹ دوں ، اور میرے پاس دو بیویاں ہیں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں ، جب اس کی عدت گزر جائے تو اس سے شادی کر لو ، عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے کہا : اللہ تعالیٰ تمہارے مال اور تمہاری اولاد میں برکت دے ، مجھے بازار کا راستہ بتاؤ ، انہوں نے ان کو بازار کا راستہ بتا دیا ، اس دن وہ ( بازار سے ) کچھ پنیر اور گھی لے کر ہی لوٹے جو نفع میں انہیں حاصل ہوا تھا ، اس کے ( کچھ دنوں ) بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اوپر زردی کا اثر دیکھا تو پوچھا : کیا بات ہے ؟ “ ( یہ زردی کیسی ) کہا : میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے ، آپ نے پوچھا : ” اس کو مہر میں تم نے کیا دیا ؟ “ کہا : ایک ( سونے کی ) گٹھلی ، ( یا گٹھلی کے برابر سونا ) آپ نے فرمایا : ” ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- احمد کہتے ہیں : گٹھلی کے برابر سونا سوا تین درہم کے برابر ہوتا ہے ،
۳- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں : گٹھلی کے برابر سونا ، پانچ درہم کے برابر ہوتا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- احمد کہتے ہیں : گٹھلی کے برابر سونا سوا تین درہم کے برابر ہوتا ہے ،
۳- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں : گٹھلی کے برابر سونا ، پانچ درہم کے برابر ہوتا ہے ۔