حدیث نمبر: 1847
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ ، فَقَالُوا : أَلَا نَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ ، قَالَ : " إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، كَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ يَكْرَهُ غَسْلَ الْيَدِ قَبْلَ الطَّعَامِ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُوضَعَ الرَّغِيفُ تَحْتَ الْقَصْعَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاخانہ سے تشریف لائے ، تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا ، صحابہ نے عرض کیا : کیا آپ کے لیے وضو کا پانی لائیں ؟ آپ نے فرمایا : ” مجھے نماز کے لیے جاتے وقت وضو کا حکم دیا گیا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اسے عمرو بن دینار نے سعید بن حویرث کے واسطہ سے ابن عباس سے روایت کی ہے ،
۳- علی بن مدینی کہتے ہیں : یحییٰ بن سعید نے کہا : سفیان ثوری کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا مکروہ سمجھتے تھے ، وہ پیالہ کے نیچے چپاتی رکھنا بھی مکروہ سمجھتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اسے عمرو بن دینار نے سعید بن حویرث کے واسطہ سے ابن عباس سے روایت کی ہے ،
۳- علی بن مدینی کہتے ہیں : یحییٰ بن سعید نے کہا : سفیان ثوری کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا مکروہ سمجھتے تھے ، وہ پیالہ کے نیچے چپاتی رکھنا بھی مکروہ سمجھتے تھے ۔