حدیث نمبر: 1759
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ ، وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ " ، قَالَ نَافِعٌ : الْوَشْمُ فِي اللِّثَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، وَمُعَاوِيَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے بال میں جوڑے لگانے والی ، بال میں جوڑے لگوانے والی ، گدنا گوندنے والی اور گدنا گوندوانے والی پر لعنت بھیجی ہے “ ۔ نافع کہتے ہیں : گدنا مسوڑے میں ہوتا ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عائشہ ، ابن مسعود ، اسماء بنت ابی بکر ، ابن عباس ، معقل بن یسار اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عائشہ ، ابن مسعود ، اسماء بنت ابی بکر ، ابن عباس ، معقل بن یسار اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یہ غالب احوال کے تحت ہے ورنہ جسم کے دوسرے حصوں پر بھی گدنا گوندنے کا عمل ہوتا ہے۔