حدیث نمبر: 1580
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَيْضِ، قَال : سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ : كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ أَهْلِ الرُّومِ عَهْدٌ ، وَكَانَ يَسِيرُ فِي بِلَادِهِمْ حَتَّى إِذَا انْقَضَى الْعَهْدُ أَغَارَ عَلَيْهِمْ ، فَإِذَا رَجُلٌ عَلَى دَابَّةٍ أَوْ عَلَى فَرَسٍ وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، وَفَاءٌ لَا غَدْرٌ ، وَإِذَا هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ، فَسَأَلَهُ مُعَاوِيَةُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ ، فَلَا يَحُلَّنَّ عَهْدًا وَلَا يَشُدَّنَّهُ ، حَتَّى يَمْضِيَ أَمَدُهُ أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ " ، قَالَ : فَرَجَعَ مُعَاوِيَةُ بِالنَّاسِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ` معاویہ رضی الله عنہ اور اہل روم کے درمیان ( کچھ مدت تک کے لیے ) عہد و پیمان تھا ، معاویہ رضی الله عنہ ان کے شہروں میں جاتے تھے تاکہ جب عہد کی مدت تمام ہو تو ان پر حملہ کر دیں ، اچانک ایک آدمی کو اپنی سواری یا گھوڑے پر : اللہ اکبر ! ” تمہاری طرف سے ایفائے عہد ہونا چاہیئے نہ کہ بدعہدی “ ، کہتے ہوئے دیکھا وہ عمرو بن عبسہ رضی الله عنہ تھے ، تو معاویہ رضی الله عنہ نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا ، تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جس آدمی کے اور کسی قوم کے درمیان عہد و پیمان ہو تو جب تک اس کی مدت ختم نہ ہو جائے یا اس عہد کو ان تک برابری کے ساتھ واپس نہ کر دے ، ہرگز عہد نہ توڑے اور نہ نیا عہد کرے “ ، معاویہ رضی الله عنہ لوگوں کو لے کر واپس لوٹ آئے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔